انوارالعلوم (جلد 8) — Page 37
۳۷ سکتا تب تک کسی شخص کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ شخص منزل مقصود پر پہنچ گیا۔اور ایسے لوگ جن کو غضب اور ضلالت سے محفوظ کر دیا جاتا ہے وہ خدا کے انبیاء ہوتے ہیں۔وہ بچے کی طرح خدا کی گود میں ہوتے ہیں۔خدا ان کے وجود کو اپنا وجود قرار دے دیتا ہے اور ان پر اپنی الوہیت کی چادر ڈال دیتا ہے۔ان میں خدا کی الوہیت تو نہیں آجاتی مگر وہ خدا کے مظہر ہو جاتے ہیں۔ان کی تعریف سچی تعریف اور ان کی حمد سچی حمد ہو تی ہے۔ان کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جس کے متعلق کہا جائے کہ وہ ٹھو کر کیوں کھا گیا۔ایک عبرتناک مثال ایک شخص کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے جہنمی دیکھنا ہو تواس شخص کو دیکھ لے یہ کہہ کر آپ نے ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ فرمایا جو لڑائی میں کفار سے بڑی سرفروشی لڑ رہا تھا۔ایک صحابی ؓکہتے ہیں مجھے خیال ہوا کہ بعض لوگوں کو اس بات سے ابتلاء نہ آجائے کہ ایک ایسے مخلص شخص کو جہنمی کہا گیا ہے کیونکہ وہ اس طرح لڑ رہا تھا کہ مسلمان کہہ رہے تھے کہ خدا تعالی اس کو جزائے خیر دے۔وہ صحابی اس کے پیچھے ہو لئے۔آخروہ زخمی ہوا۔اس نے رونا شروع کیا صحاب آکر کہتے تھے تھے جنت کی بشارت ہو۔مگر وہ کہتا تھا کہ تم مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ جہنم کی بشارت دو کیونکہ میں خدا کے لئے نہیں اپنے نفس کے لئے لڑ رہا تھا۔آخر جب وہ درد سے بیتاب ہو گیا تو اس نے اپنا نیزه گاڑا اور اپنا پیٹ اس پر رکھ کر ہلاک ہو گیا کہ اسی طرح خودکشی کر کے اس سے ثابت کر دیا کہ وہ جہنمی تھاپس کسی شخص کی حالت محفوظ نہیں ہوتی جب تم خدا تعالی اس کے وجود کو اپنا وجود نہ کہہ دے اور اس کی یہ حالت نہ ہو جائے۔من شدم من شدی من تن شدم جہاں شدی تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری پس کتنا ہی مخلص اور کتنی ہی خدمت کرنے والا کوئی ہو یہ کہنا کہ وہ ٹھوکر نہیں کھا سکتا درست نہیں۔اس وقت مجھے کیا علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔لیکن مجھے القاء کیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو ٹھو کر لگنے والی ہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خطبہ پڑھتے وقت کوئی خاص آوی مد نظر نہیں تھا۔مگر مجھے بتایا گیا تھا کہ ایسے آدمی ہیں جو ٹھوکر کھائیں گے۔