انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 590

۵۹۰ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم مذہبی مسائل پر گفتگو (۱۶- اکتوبر ۱۹۲۴ء حضرت مصلح موعود ایک نومسلمہ خاتون مسزپرل (موتی بیگم )کی دعوت چائے پر چند خدام کے ساتھ ان کے مکان واقع ڈلچ (لندن) تشریف لے گئے۔اس موقع پر مسز پرل او را نکی ایک دوست نے بعض سوالات کے جنکے حضور نے نہایت مدلّل جواب دیئے) مسئلہ کفرواسلام موتی بیگم : کیا میں آپ کے نقطہ خیال سے مسلمان ہوں؟ حضرت صاحب :۔میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں اب بھی کہتا ہوں کہ چونکہ آپ خدا کے نبی کا اقرار نہیں کرتی ہیں خدا کی نظر میں مسلمان نہیں تم خود اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہو۔سوال:- بہت سے لوگ جو مسلمان ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے نزدیک غیراحمدی مسلمان نہیں؟ حضرت صاحب:۔میں کہتا ہوں یہ تو قرآن شریف کا فیصلہ ہے جو خدا کے کسی نبی کا انکار کرے وہ کافر ہو تا ہے یہ قرآن شریف کا فیصلہ ہے کہ ہر شخص جو اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے وہ خدا کے سب نبیوں پر ایمان لائے اور ان میں بلحاظ نبوت کے تفریق نہ کرے۔سورة بقرہ میں خداتعالی نے مسلم کے ایمان کے ارکان بتاتے ہوئے کہا کہ وہ لا تفيق بي أحدث شيله ۷۰؎ کا عقیدہ رکھتے ہیں۔پس مسلم کی سچی تعریف یہی ہے کہ جو تمام ان وحیوں پر ایمان لائے جو خدا کی طرف سے آتی ہیں۔تم یہ نہیں کہہ سکتی ہو کہ ان کو علم نہیں اور جو شخص جہالت سے کسی وحی کا انکار کرے اس پر اس کا اطلاق نہ ہو گا۔کیا انگلستان کے دیہات میں یا یہاں دوسرے لوگ اسلام سے واقف نہیں صاف ظاہر ہے کہ نہیں۔تو کیا تم ان کو کافر کہوگی یا مسلمان ؟ موتی بیگم :- کافر۔