انوارالعلوم (جلد 8) — Page 535
۵۳۵ خیال سے مجبوراً اس پہلی سودا کرنے والی پالیسی کو ترک کرنا پڑا ہے- نتیجہ اس کا یہ ہوا ہے کہ ریفارم سے جو فائدہ مدنظر تھا وہ نکلتا نظر نہیں آتا جیسا کہ سی پی، بنگال اور امپیریل کونسل کے واقعات سے ظاہر ہے- اگر گورنمنٹ باربار پرانی کونسلوں کو منسوخ کرکے نئے انتخاب کرے گی تو تب بھی ان لوگوں کا فائدہ ہے کیونکہ اس سے لوگوں کی توجہ اس پارٹی کی طرف اور بھی پھرے گی اور اگر گورنمنٹ کونسلوں کو موقوف کر کے خود کام کرے گی تب بھی ان کا فائدہ ہے کیونکہ اس صورت میں ہ پارٹی لوگوں سے کہے گی کہ دیکھ ہندوستان کو کوئی اختیارات نہیں دیئے گئے تھے۔جب کوئی بات گورنمنٹ کی رائے کے خلاف ہوئی اس نے کونسلوں کو ہی توڑدیا۔پس اختیارات صرف دکھاوے کے تھے۔میرے نزدیک موجودہ حالات میں گورنمنٹ کے لئے اصل میں تو یہی راستہ کھلا ہے کہ ریفارم سکیم کی اصلاح کرکے اس کے بدنتائج سے محفوظ ہو۔لیکن اگر یہ قابل عمل نہ سمجھاجائے تو پھر یہ چاہیے کہ جس ذریعہ سے لوگوں کو کامیابی ہوئی ہے اسی ذریعہ کو گورنمنٹ بھی اختیار کرلے اور وہ ذریعہ جو انہوں نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ وہ پبلک کے پاس اپیل کرتے ہیں- گورنمنٹ کو بھی یہی ذریعہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ موقع سب سے بہتر ہےاس وقت ملک کے لوگوں میں بین الاقوام فسادات کی وجہ سے یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ ان کو برطانوی گورنمنٹ کی ابھی ضرورت ہے- پس اس وقت اگر گورنمنٹ عوام الناس کی طرف توجہ کرے تو وہ ملک کو اس سڑک پر ڈال سکتی ہے جس سے وہ کامیابی کا منہ دیکھ سکے- مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ گورنمنٹ کچھ مدت سے سوئی ہوئی ہے جس وقت ہندو مسلمانوں میں فسادات شروع ہی ہوئے تھے مَیں نے پچھلے سال کے نومبر میں پنجاب گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ ملک میں فساد ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔کچھ دن فساد ہوگا پھر لوگ اکٹھے ہوجائیں گے اور مسٹر گاندھی اس موقع کو کبھی نہیں جانے دیں گے اور لوگ یہ خیال کریں گے کہ اصل خیر خواہ ملک کے مسٹر گاندھی ہیں- پس گورنمنٹ کو چاہیے کہ اس وقت خود دخل دے کر ہندو ستان کے جھگڑے کو ختم کردے اور میں نے اس کے لئے اپنی جماعت کی خدمات بھی پیش کی تھیں کہ ہم پہلے طرفین کے خیالات معلوم کرکے ابتدائی کام کرسکتے ہیں۔اگر ایسا ہوجاتا تو یقیناً لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جاتی کہ گورنمنٹ ملک کی سچی بہی خواہ ہے اور عوام الناس جو اِن جھگڑوں سے دل ہی دل میں تنگ ہیں اس کو ایک احسان سمجھتے مگر گورنمنٹ نے مجھے یہ جواب دیا کہ اگر ہم صلح