انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 451

۴۵۱ دوره یو رپ جس کا نام منشیا ہے، اس میں رہتے ہیں۔اور خود اس علاقہ کا نام جس میں وہ لوگ رہتے ہیں بہجہ ؟ جب ہم نے وہاں جانا چاہاتو موٹر والوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ ہم سے اقرار عكّه کا تھا ہم آپ کو عكّه لے آئے ہیں دوسرے گاؤں میں ہم نہیں جاسکتے۔کیونکہ وہ یہاں سے دس میل پر ہے۔آخر ان کو انعام کے وعدے سے راضی کیا۔ایک نوجوان عكّه کا رہبر بنا اور بہائیوں کے مرکز کی طرف روانہ ہوئے۔ٍموٹر دس بارہ منٹ میں وہاں پہنچی۔پیدل راستہ جیسا کہ عكّه کے لوگوں نے بھی بیان کیا اور خود بہائیوں نے بھی تسلیم کیا ،آدھ گھنٹہ سے کم کا نہیں ہے۔میرے نزدیک وہ مقام عكّه سے اتنے فاصلہ پر ہے جتنی قادیان سے نہر۔اگر تتلے کے گاؤں میں رہنے والے آدمی قادیان کے باشندے کہلا سکتے ہیں تو منشیا کے رہنے والے بھی عکّه کے باشندے کہلا سکتے ہیں۔اور اگر تین میل کے فاصلہ کے گاؤں میں بسنے والے آدمی دنیا میں کبھی بھی کسی دوسرے گاؤں کی طرف منسوب ہوتے ہیں تو بے شک بہائیوں کا مرکز بھی عکه کی طرف منسوب ہو سکتا ہے۔پس اگر ایسا نہیں تو بہائیوں کا یہ دعوی ٰکہ ان کا مرکز عکّه میں ہے ،نہایت قابل افسوس اور خلاف واقع دعوی ہے۔مجھے نہایت ہی تعجب ہوا کہ کس دلیری کے ساتھ بہائی لوگ عکه کے متعلق جو روایات ہیں، انکو اپنے اوپر چسپاں کرتے ہیں۔شروع میں چند سال مرزا حسین علی صاحب معروف بہ بہاء الله عکّه میں نظر بند کئے گئے تھے۔لیکن کچھ سال ہی کے بعد ترکی گورنمنٹ نے ان کے لئے آزادی دے دی۔اور ان کو کسی دوسری جگہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔چنانچہ انہوں نے بہجه کو پسند کر لیا۔اور وہیں وہ رہے اور وہیں فوت ہوئے اور وہیں وہ دفن ہوئے۔ان کی قبر بہجہ میں ہے نہ کہ عکّه میں۔اور جس مکان وہ میں فوت ہوئے وہ بھی بہجه میں ہے۔ان کے بعد مرزا عباس على صاحب کچھ دنوں کے لئے عكّه میں جا کر رہے گو باقی سارا خاندان بہجہ میں ہی رہا۔پھر مرزا عباس علی صاحب بھی حیفا چلے گئے، عكّه میں صرف دو بہائی ہیں اور کوئی دوسَو گھر کی آبادی کا گاؤں ہے۔اس لئے یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ بڑے شہروں کے پاس کے گاؤں بھی انہی کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔دو سو گھر کی آبادی کا گاؤں کبھی بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ اس کی طرف تین چار میل کے فاصلہ کے ایک گاؤں کو منسوب کیاجائے اور اس کو اس کا جزو قرار دیا جائے۔