انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 452

۴۵۲ دوره یو رپ بہجہ میں عباس علی کے بھائی سے ملاقات بہجه میں ہم نے مرزا محمد علی صاحب سے جو مرزا عباس علی صاحب کے چھوٹے بہائی ہیں معلوم کیا کہ نہ کوئی ڈاک کا انتظام ہے اور نہ کثرت سے مہمان آتے ہیں۔کبھی کبھار کوئی مہمان آیا تو مکان کے ایک گوشہ میں ٹھہر جاتا ہے۔ورنہ عام طور پر تماشہ کے لئے لوگ آتے ہیں جو دو ایک گھنٹہ تک ٹھہر کر چلے جاتے ہیں۔جب بہائیوں کی تعداد کے متعلق ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ صحیح تعداد تو نہیں بتائی جاسکتی مگر جو کچھ بہائی ہیں وہ ایران ہی میں ہیں۔پھر کچھ امریکہ میں ہیں، باقی ملکوں میں یونہی تھوڑے تھوڑے آدمی ہیں اور جو تعداد بتائی جاتی ہے اس میں بہت مبالغہ ہے۔غرض حیفاور عكّه جانے سے ہمیں بہت کچھ فائدہ ہوا۔ہمارے کئی دوست کہتے تھے جس شخص کو بہائیت کی طرف میلان ہو اس کو یہاں لانا چاہئے۔اور پھر پوچھنا چاہیے کہ ۸۰ سال میں تمہاری تو یہ ترقی ہے اور حضرت مسیح موعودؑکی تیس سال میں وہ جو تم قادیان میں دیکھتے ہو۔(باقی انشاء الله آئنده) خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۳ استمبر ۱۹۲۴ء)