انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 344

۳۴۴ ورغلاتے ہیں۔سال میں دو تین دفعہ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ عوام بعض متعصب مقامی افسروں کو ملا کر جس جس احمدی پر زور چلے اسے گرفتار کر لیتے ہیں اور بعض کو منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرکے شہر میں پھراتے ہیں، بعض کو مارتے ہیں، بعض کو قید میں ڈال دینے ہیں اور جُرمانہ وصول کر کے چھوڑتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ پچّیس سال سے احمد ی یہ مصائب برداشت کرتے چلے آرہے ہیں خداتعالی کے فضل سے ان کے ایمان متزلزل نہیں ہیں بلکہ وہ ترقی کر رہے ہیں۔یہ امر جذبہ شکر کے خلاف ہو گا اگر میں اس جگہ یہ اظہار نہ کردوں کہ ہز میجسٹی امیر امان اللہ صاحب جب سے سلطنتِ افغانستان پر متمکن ہوئے ہیں انہوں نے ان مظالم کو بالکل مٹا دیا ہے جو احمدیوں کے خلاف حکومت کی طرف سے ہوتے تھے اور گو بوجہ اس کے کہ ابھی افغانستان انتظام و درستی کے ابتدائی مراحل سے گذر رہا ہے وہ ان کے لئے حقیقی امن قائم کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔مگر ہم امید کرتے ہیں کہ گورنمنٹ افغانستان اسی انصاف کی روح کے ساتھ کام کرتی رہی تو کچھ عرصہ تک افغانستان میں احمدیوں کے لئے گورنمنٹ کے علاوہ کام مقامی اور رعایا سے بھی امن ہو جائے گا۔یہ تو افغانستان کے لوگوں کی قربانی ہے مگر ہندوستان کے احمدیوں کا حال کم نہیں ہندوستان میں انگریزی حکومت ہے اس لئے یوں تو مار نہیں سکتے مگر جھوٹ اور فریب سے ہر جگہ احمدیوں کو تکلیف دی جاتی ہے اور وہ سب تکلیفوں کو خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔قتل بے شک ایک بڑا ابتلاء ہے لیکن صبر آزما مصیبت وہ ہے جو آہستہ آہستہ آتی ہے۔ہندوستان کے احمدیوں کو اس سے حصہ ملا ہے بلکہ نوے فیصدی احدی ان حالات میں سے گزرتے ہیں۔بہت ہیں جن کے جسم ان نشانوں سے پُر ہیں جو ان کو احمدیت قبول کر کے ماریں کھا کر لگے ہیں ،بہت سے لوگ گھروں سے نکالے گئے ، بعض چھوٹے چھوٹے بچوں کو والدین نے نکال دیا مگر ثابت قدم رہے، بعض دفعہ ایک گاؤں میں ایک ہی احمدی ہو تا ہے اور سب لوگ اس کو مل کر مارتے ہیں پھر پولیس کی تفتیش پر کوئی اس کی تائید میں گواہی دینے والا نہیں ہوتا ،کئی جگہوں پر قبرستانوں میں احمدیوں کو مردے دفین نہیں کرنے دیتے، بعض جگہ لاشیں لوگوں نے باہر نکال کر پھینک دیں، گر میوں کے دنوں میں کنؤوں سے پانی لینے سے روک دیا اور کئی کئی دن اس شدید گرمی میں کہ پارہ حرارت ایک سو پند رہ تک سایہ میں ہو جاتا ہے پڑوں اور بچوں کو پیاسا رہنا پڑا، کئی جگہ ان کی دکانوں سے سووا نہیں لیا جا تا او ران کے کھیت برباد کر دیئے جاتے ہیں، ان کے لیکچروں اور وعظوں کے موقعوں پر