انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 345

۳۴۵ پتھر مارے جاتے ہیں شور کیا جاتا ہے ، کئی جگہ ان کی بیویوں کو ان سے جبراً چھین کر ان کا دو سری جگہ نکاح کر دیا گیا ہے، بچوں کو والدسے جدا کر لیا گیا ہے ،عورتوں کو ان کے خاوندوں نے مار کر گھر سے نکال دیا ہے۔سرکاری ملازمتوں میں چونکہ دوسرے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ان میں بھی احمدیوں کو دِق کیا جا تا ہے اور ہمیشہ وہ مصائب میں مبتلا رہتے ہیں' وکلاء اور ڈاکٹروں کا بھی جہاں بس چلتا ہے بائیکاٹ کیا جاتا ہے عام پیشہ وروں کا تو حال ہی نا قابل بیان ہے ان کو تو سخت تکلیف دی جاتی ہے حتی ٰ کہ سینکڑوں ہیں جو غیراحمدی ہونے کی حالت میں اچھے آسودہ حال تھے مگر آج وہ نان ِشبینہ کے محتاج ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود ؑنے کچھ ایسی روح اس جماعت میں پھونک دی ہے کہ وہ دلیری سے ان مصائب کو برداشت کرتی ہے مگر اپنے ایمان کو نہ چھوڑتی ہے نہ چھپاتی ہے بلکہ علی الاعلان اس کو ظاہر کرتی رہتی ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلی ٰنمونہ دکھاتی رہتی ہے۔احمدی افراد اپنے لباس و اطوار میں دوسرے لوگوں سے جدا نہیں ہیں مگر حضرت مسیح موعود ؑ علیہ السلام کی تعلیم نے ان پر کچھ ایسا اثر کیا ہے کہ باوجود لباس وغیرہ میں تغیرنہ ہونے کے عام طور پر لوگ ان کو پہچان لیتے ہیں اور اس کی وجہ ان کے وہ اعلی ٰاخلاق ہیں جن کے ذریعہ سے وہ دوسروں سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ان کی زبانوں کا گالیوں اورفحش باتوں سے پاک ہونا، ان کا دوسروں کی خاطر تکلیف اٹھانا اور ایثار سے کام لینا ان کا دھوکے اور فریب سے بچنایہ ان کو ہر مجلس میں ممتاز کر کے دکھا دیتا ہے اور وہ آدمی بھی جو احمدی کیر یکٹر سے واقف ہو لیکن ایک احمدی كاذاتی واقف نہ ہو اسے رہیں یا جلسه با دو سری اجتماع کی جگہوں میں پہچان لیتا ہے۔جاہل سے جاہل احمدی بھی کہیں نظر آئے تو اس کی عقل تیز اور اس کی بحث کی قابلیت غیر معمولی نظر آئے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم نے اس جماعت کے بنانے میں یہ عظیم الشان معجزہ دکھایا ہے کہ ایک طرف تو احمدی آپ کی تعلیم کے ماتحت اس انتہائی بے دینی اور بے پرواہی کو چھوڑ کر چودنیامیں نظر آتی تھی خداتعالی اور اس کے رسولوں اور اس کے کلام کی محبت میں سرشار نظر آتا ہے۔وہ اپنے وجود کو اب صرف ایک آئینہ سمجھتا ہے جو خداتعالی کی صفات کے انعكاس کے لئے بنایا گیا تھا۔اس کا دن اور اس کی رات خداتعالی کی یاد اور اس کی عبارت میں صرف ہوتے ہیں وہ اس دنیوی مقابلہ کے زمانہ میں اپنے کاموں کا حرج کر کے روحانی فیوض کے حصول میں مشغول نظر آتا ہے مگر دوسری طرف اسی تعلیم کے اثر سے وہ دنیا کے مخت