انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 343

۳۴۳ میدان میں آیا اور شہر کے لوگ بھی اکٹھے ہوئے اور سنگسار کرنے کی تجویز ہوئی۔آخری وقت میں امیر پھر ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ صاحبزادہ صاحب! اب بھی موقع ہے آپ اپنے عقیده سے توبہ کرلیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ توبہ کس بات سے ؟ میں نے حق کو پالیا ہے اور میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔یاد رکھو کہ میرے مرنے کے بعد پہلی جمعرات کو قیامت آجائے گی اور میں جیاٹھوں گا۔جب امیر مایوس ہوگیا تو اس نے واپس آکر سید الشہداء پر پتھر پھینکا اور چاروں طرف سے لوگو ں نے نے پتھر پھینکنے شروع کئے مگر صاحبزادہ صاحب استقلال سے کھڑے رہے یہاں تک کہ پتھروں کی ضربوں سے ان کا سر پاش پاش ہو گیا اور گردن جھک گئی۔ظالم برابر پتھر مارتے چلے گئے حتیٰ کہ سر تک پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر جمع ہو گیا اور اس صادق مومن کی پاکیزہ روح اپنے پیدا کرنے والے سے جاملی۔تب لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے مگر ان کی لاش پر پہرہ مقرر کر دیا گیا تا کہ کوئی شخص ان کو دفن نہ کردے۔مگر خد اکابدلہ نزدیک تھاوہ قیامت جس کی انہوں نے خبر دی تھی اچانک آگئی اور پہلی جمعرات کو غیر معمولی طور پر خلاف توقع اور خلاف پچھلے تجربہ کے کابل میں سخت ہیضہ پھوٹا اور سخت موت پڑی جس سے شاہی خاندان میں سے بھی بعض جانوں کا نقصان ہوا۔ان واقعات کو ایک بے تعلق انگریز انجینئر مسٹر مارٹن (FRANK A۔MARTIN) دی انجینئر اِنچیف افغانستان نے اپنی کتاب "أنڈر دی ابسولیوٹ امیر‘‘۳۰۳۔(UNDER THE ABSOLUTE AMIR) میں نہایت سادگی سے بیان کیا ہے جو پڑھنے کے قابل ہے۔گو بوجہ سلسلہ سے ناواقفیت کے بعض باتیں انہوں نے غلط لکھ دی ہیں مگر پھر بھی ان کی تحریر نہایت مؤثر ہے خصوصاً اس صورت میں کہ ایک بے تعلق آدمی کی لکھی ہوئی ہے۔صاحبزاده عبداللطیف صاحب سے پہلے ان کے شاگرد مولوی عبد الرحمن صاحب کو گلا گھونٹ کر مار دیا گیا تھا ان کا جرم بھی یہی تھا کہ وہ سلسلہ احمدیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ان دو قتلوں کے علاوہ جو حکومت کی طرف سے ہوئے ہیں لوگوں نے کئی احمدی قتل کئے ہیں۔چنانچہ پچھلے ماہ میں دو احمدیوں کو لوگوں نے مار دیا ہے۔علاوہ قتل کے دو سری تکالیف تو ہمیشہ ہی احمدیوں کو پہنچائی جاتی ہیں جنہیں وہ نہایت بہادری سے برداشت کرتے ہیں۔چنانچہ اسی سال کے دوران میں خوست کے علاقہ میں جو بغاوت ہوئی ہے اس میں جب باغیوں نے ہز میجسٹی دی امیر کی افواج کے خلاف کچھ زور چلتا ہوا نہ دیکھا تو احمدیوں کے دو گاؤں جلا دیئے اور بہانہ یہ کیا کہ یہ لوگ امیر کو