انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 342

۳۴۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذہبی روانگی پیدا نہیں کی اور نہ مذہب کو اپنی ذات کی محبت کے گرد لپیٹ کر لوگوں کی توجہ کو ایک ہی نقطہ پر جمع کردیا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا قاعدہ ہے جو باقی نیک خصلتوں کو نظرانداز کر کے صرف قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ آپ نے ہر ایک چیز کو اس کے مرتبہ کے مطابق پیش کیا ہے اور انسانی عقل کو ہر ممکن طریق سے زندہ رکھنے کی بلکہ ترقی دینے کی کوشش کی ہے۔مگر باوجود اس کے آپ کی جماعت میں یہ مادہ نظر آتا ہے کہ وہ اپنی جان اور اپنا مال خداتعالی کے راستہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ان کی مثال صحابہ ؓرسول کریم ﷺ کی ہے جن کی نسبت قرآن کریم فرما ہے۔منهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر ۳۰۔ان میں سے بعض نے اپنے ارادہ کو پورا کر دیا اور خدا کی راہ میں جان دے دی ہے اور بعض اس وقت کے منتظر ہیں۔چنانچہ افغانستان میں دو موقعے احمدیوں کو جان قربان کرنے کے ملے ہیں جن میں انہوں نے نہایت ثبات سے جانیں دی ہیں۔دو موقعوں سے میری مراد یہ ہے کہ جن دو موقعوں پر ان کو کہا گیا ہے کہ تم توبہ کر لو مگر انہوں نے توبہ نہیں کی ورنہ احمدیت کی وجہ سے مارے تو وہاں کئی آدمی گئے ہیں جن کی تعداددس سے کم نہ ہوگی۔ان آدمیوں میں سے زیادہ اہم شہادت سید عبد اللطیف صاحب کی ہے۔آپ افغانستان کے بہت بڑے عالم تھے اور آپ کو ایسا درجہ حاصل تھا کہ امیر حبیب اللہ خان ۳۰۲؎ صاحب کی تاج پوشی کی رسم آپ ہی نے ادا کی تھی۔آپؓ کو جب سلسلہ احمدیہ کی خبر لی تو آپ نے کتب سلسلہ منگوا کر پڑھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔اس کے بعد ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور حج کی نیت سے افغانستان کے امیر سے اجازت لی اور راستہ میں قادیان بھی ٹھہرنے کا ارادہ کیا۔قادیان آکر ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ مجھے اب آگے نہیں جانا چاہئے بلکہ یہاں رہ کر دین کی معلومات بڑھانی چاہئیں۔چنانچہ وہ ہیں ٹھہر گئے اور کئی مہینے ٹھہر کر واپس وطن گئے اور جاتی دفعہ کہہ گئے کہ میرا ملک مجھے بلاتا ہے تااپنے خون سے اس کی اصلاح کا راستہ کھولوں اور میں اپنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پڑی دیکھتا ہوں۔ملک میں جاتے ہی امیر نےطلب کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ احمدی ہو گئے ہیں؟ انہوں نے اقرار کیا۔اس پر بہت بڑی بحث کے بعد علماء کے فتوی ٰکے ماتحت ان کے قتل کا فیصلہ کیا گیا۔بار بار امیرنے بلا کر ان کو توبہ کی تحریک کی مگر انہوں نے انکار کیا اور آخران کو زمین میں گڑھا کھود کر آوهادفن کیا گیا اور امیر خود مع الشكر