انوارالعلوم (جلد 8) — Page 323
۳۲۳ غرض موت کی حکمت ان حالات کو انسان کی نظروں سے مخفی رکھنا ہے جو اس کے اعمال کے نتیجہ میں اس کو پیش آتے ہیں تاکہ وہ فکر اور غور اور عقل اور خشیت اللہ سے کام لے کر حقیقت تک پہنچے اور اس کی روح میں وہ آزاد قابلیت پیدا ہو جو صرف ایسی ہی کوشش کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتی ہے۔دوسری غرض موت کی یہ ہے کہ انسانی روح ان قابلیتوں کو پیداکر سکے جن کے بغیر اعلیٰ ترقیات حاصل نہیں ہو سکتیں۔انسانی جسم ایسا کثیف ہے کہ دنیا کی لطیف چیزوں کا بھی مشاہدہ نہیں کر سکتا کجا یہ کہ ان کی باریک طاقتوں کو دیکھ سکے جو اس دنیا کے مادے کی نسبت زیادہ لطیف مادوں سے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایک قسم کے روحانی اجزاء سے بنا ہوا ہے۔پس روح کو جسم سے جدا کر کے موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان لطیف امور پر واقف ہو جو اس کی بے انتہاء ترقیات کے لئے ضروری ہیں پس جب روح جسم سے جدا ہوتی ہے تو اسی وقت وہ ایک اور سڑک پر قدم مارنے لگتی ہے اور یہ نہیں کہ اس کو کسی خاص وقت تک کسی خاص کوٹھڑی میں بند کر کے رکھ چھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے امتحان کے نتیجہ کا انتظار کرے۔دراصل یہ خیال عقلی ڈھکوسلوں کا نتیجہ ہے۔بعض لوگوں نے انسانی زندگی کو ایک امتحان سے تشبیہ دے کر اس کی پوری صورت بعد الموت کے حالات میں بھی پیدا کر دی اور جس طرح امتحان کے بعد پرچوں کے دیکھنے تک ایک وقفہ ہوتا ہے انسان کی موت کے بعد ایک وقفہ تجویز کیا ہے اور پھر ایک دن مقرر کیا ہے جس دن کہ ان پرچوں کا نتیجہ سنا دیا جائے گا اور کوئی فیل ہو جائے گا اور کوئی پاس۔لیکن گو یہ بات تو درست ہے کہ انسانی زندگی کو امتحان کے ایام سے بھی ایک مشابہت ہے مگر یہ درست نہیں کہ امتحان کی سب صورتیں اس پر منطبق ہوتی ہیں اس کی مشابہت اس قدر انسانی طریقہ امتحان سے نہیں جس قدر کہ قانون قدرت کے ترقی بخش طریق عمل سے ہے۔چنانچہ اسلام بعد الموت زندگی کی ابتدائی زندگی سے تشبیہ دیتا ہے یعنی جس طرح انسان نے نطفہ بلکہ نباتی اور حیوانی زندگی سے رحم مادر میں ترقی کی اور پھر پیدا ہونے کے بعد ایک کمزوری کے زمانہ میں سےگزرا جس میں اس نے اس دنیا کے علوم اور عادات کو سیکھا اسی طرح وہ مرنے کے بعد مختلف حالات میں سے گزرے گا۔چنانچہ قرآن کریم جو لفظ رِحم کے متعلق استعمال فرماتا ہے وہی اس مقام اور اس حالت کے متعلق استعمال فرماتا ہے جس مقام اور جس حالت میں انسان بعد الموت رکھا جاتا ہے۔پس مرنے کے بعد انسانی روح کی پہلی حالت اس