انوارالعلوم (جلد 8) — Page 316
۳۱۶ سے۔(4) شکست کے بعد اس قوم کے حصے بخرے کرنے اور ذاتی فوائد اٹھانے کی خواہش کے پیدا ہو جانے کے سبب سے۔(5) امن عامہ کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہونے کے سبب سے۔ان پانچوں نقائص کو دور کر دیا جائے تو قرآن کریم کی بتائی ہوئی لیگ آف نیشنز بنتی ہے اور اصل میں ایسی ہی لیگ کوئی فائدہ بھی دے سکتی ہے نہ وہ لیگ جو اپنی ہستی کے قیام کے لئے لوگوں کی مہربانی کی نگاہوں کی جستجو میں بیٹھی رہے۔اصل بات یہ ہے کہ کبھی بین الاقوامی جھگڑے دور نہ ہوں گے جب تک اقوام بھی اپنے معاملات کی بنیاد اخلاق پر نہ رکھیں گی جس طرح کہ افراد کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کاموں کی بنیاد اخلاق پر رکھیں اسی طرح حکومتوں کو بھی اخلاق کی نگہداشت کی طرف توجہ دلانی چاہئے۔فساد بعض اسباب سے پیدا ہوتے ہیں۔پہلے ان کی اصلاح کرنی چاہئے پھر خود جھگڑے کم ہو جائیں گے اور اگر باوجود اس اصلاح کے کسی وقت کوئی جھگرا پیدا ہو جائےتو اس کےد ور کرنے کے لئے اسلامی اصول پر ایک انجمن اصلاح بنانی چاہئے جو ان جھگڑوں کا فیصلہ کرے۔وہ وجوہ جن سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں چند اخلاقی نقص ہیں۔(1)یہ کہ حکومتوں اور رعایا کے تعلقات درست نہیں۔اگر اسلامہ نقطہ نظر کو مدنظر رکھا جائے کہ ہر ایک ملک کی رعایا کا فرض ہے کہ یا تو اس حکومت سے تعاون کرے جس کے ماتحت وہ رہتی ہے یا اس ملک کو چھوڑ کر چلی جائے تا دوسروں کا بھی امن برباد نہ ہو تو کبھی کسی قوم کو دوسری قوم پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہو کیونکہ کوئی قوم اس امر کو پسند نہیں کرے گی کہ ایک بنجر ملک پر قبضہ کرے۔اور (2) یہ نقص ہے کہ مختلف حکومتوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی قومیں صرف اس خیال سے کہ وہ ان کی حکومتیں ہیں ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں اس لئے وہ بے خوف ہو کر دوسری قوموں پر حملہ کر دیتی ہیں اگر مندرجہ ذیل اصل جسے اسلام نے پیش کیا ہے قبول کیا جائے کہ تو اپنے بہائی کی مدد کر۔اگر وہ مظلوم ہے تو دوسروں کے ظلم سے اسے بچا او راگر وہ ظالم ہے تو اس کو اپنے نفس کے ظلم سے بچا۔تو جنگوں میں بہت کچھ کمی آ جائے۔اس وقت قومی تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اپنی قوم کا سوال پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ بلا غور کرنے کے ایک آواز پر جمع ہو جاتے ہیں اور