انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 187

۱۸۷ انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بتہ سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے او ر ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔درحقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدا تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دیدی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہی لوگوں کو ملے۔اب خدا تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔" مضمون صاف ہے اور مطلب واضح ہے خدا تعالیٰ نے آج سے چونتیس سا ل پہلے اطلاع دی کہ آپ یورپ میں جا کر اسلام کی تبلیغ کریں گے اور آپ کی تقریریں اشاعت اسلام کا موجب ہوں گی اور آخر مغرب اسی طرح دین سے حصہ پائے گا جس طرح کہ آج وہ دنیا سے حصہ پا رہا ہے۔بے شک اس خواب میں آپ نے اپنے آپ کو تقریر کرتے ہوئے دیکھا لیکن نبی سے مراد اس کی امت ہوتی ہے او ران میں سے خاص طور پر اس کے خلفاء۔پس اس خواب میں آپ کے یا آپ کے کسی خلیفہ کے انگلستان جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے گی اور لوگ احمدیت کو قبول کریں گے اور خدا کو ان کو برکت دے گا۔اے بہائیو اور بہنو! اس رؤیا کے پور اہونے کو معمولی بات نہ سمجھو کیونکہ کسی چیز کی حقیقت اس کے پورے حالا ت کے معلوم ہونے سے ظاہر ہوتی ہے۔ان حالات کو مدنظر رکھو جس وقت یہ خبر دی گئی تھی اور اس امر کو دیکھو کہ خبر دینے والا کون تھا؟ حالات تو یہ تھے کہ جس وقت یہ خبر دی گئی تھی اس وقت مسیحیت کا اس قدر غلبہ تھا کہ مسلمان مسیحیت سے بالکل مرعوب ہو چکے تھے۔یورپ کے مصنف تو خیر لکھتے ہی تھے بعض مسلمان مصنف بھی یہ تسلیم کرنے لگ گئے تھے کہ اسلام مسیحیت سے سو سال کے عرصہ میں مغلوب ہو جائے گا۔اور بعض لوگوں نے تو مذہبی ریفارم کے نام سے یہ تحریک شروع کر دی تھی کہ اسلام اور مسیحیت کی صلح کروا دی جائے اور یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مسیحیت بھی سچی ہے اور اسلام