انوارالعلوم (جلد 8) — Page 149
۱۴۹ چوتھے کسی کو رب قرار دینا یعنی کسی بزرگ یا پیر کو ایسا سمجھ لینا کہ وہ بشریت کی غلطیوں سے بھی پاک ہے اور وہ جو کچھ حکم دے خواہ وہ کیسا ہی برا ہو اس کا ماننا ضروری ہے اور کسی بندہ کی بات کو خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو خدا تعالیٰ کی بات پر عملاً مقدم کرنا خواہ اعتقاداً اس کو خدا نہ سمجھے۔قرآن کریم میں ان چاروں قسموں کے شرکوں کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے۔قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران:65) یعنی اے اہل کتاب اس امر میں تو ہم سے اتفاق کرو جس میں تم اور ہم اجمالاً متفق ہیں یعنی صرف اس خدا کی جس کا شریک فی الجوہر کوئی نہیں عبادت کریں اور کسی کو اس کی صفات میں شریک نہ کریں اور بندوں میں سے کسی کی بات کو اس کے حکم پر مقدم نہ کریں۔اگر یہ لوگ بات نہ مانیں تو کہہ دو کہ ہم تو اس رنگ میں خدا کے فرمانبردار ہو کر رہیں گے۔غور کرو کس طرح تمام اقسام شرک خواہ بڑی ہوں خواہ چھوٹی اس مختصر سے کلام میں جمع کر دی ہیں۔اس حکم کے ماتحت جب ایک مسلمان یہ کہتا ہے کہ وہ ایک خدا کا قائل ہے تو وہ اس لفظ کے وہی معنے لیتا ہے جو زبان میں اس فقرے کے معنے ہوتے ہیں۔وہ سوائے ایک خدا کے کسی کی عبادت نہیں کرتا وہ اس کی صفات کسی اور کو نہیں دیتا وہ اس کو ہر ایک قسم کی رشتہ داریوں سے پاک قرار دیتا ہے۔وہ اسے حلول اور اوتار بننے کی حالتوں سے بالا سمجھتا ہے وہ اسے موت اور بھوک اور پیاس کے جذبات سے خواہ بطور تنزل ہی کیوں نہ ہوں پاک سمجھتا ہے۔اس کا ماتھا کسی اور کے آگے نہیں جھکتا۔وہ اپنی امیدوں کا مأوٰی اور کسی کو نہیں بناتا۔وہ دعاؤں میں اور کسی کو مخاطب نہیں کرتا۔وہ خدا کے نبیوں کا بڑا ادب کرنے والا ہے لیکن وہ ان کو بھی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انسانوں جیسا انسان خیال کرتا ہے اور یہی تعلیم ہے جو اسلام اسے دیتا ہے اور جس پر عمر بھر چلنے کی اسے تاکید کرتا ہے۔اب اجمالاً تو سارے ہی مذہب اس کےساتھ توحید باری کے اقرار میں متفق ہیں لیکن تفصیلات میں ہر ایک اپنا الگ الگ راستہ لے لیتا ہے اور سب مذاہب میں ایک عظیم الشان بُعد پیدا ہو جاتا ہے۔خلاصہ یہ کہ اسلام کی تعلیم اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق نہایت مکمل ہے کیا بلحاظ اجمال کے اور کیا بلحاظ تفصیل کے اور اس تعلیم سے جو رغبت انسان کے دل میں اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے پیدا ہو سکتی ہے اور کسی مذہب کے ذریعہ وہ رغبت پیدا نہیں ہو سکتی۔اور مزید خوبی یہ ہے کہ اسلام