انوارالعلوم (جلد 8) — Page 148
۱۴۸ اس کی طرف سے منہ پھیر لے؟ نہیں بخدا ہرگز نہیں۔سب سے آخر میں میں اس صفت کو لیتا ہوں جو سب صفات سے زیادہ مشہور ہے لیکن جس میں تفصیلاً سب سے زیادہ اختلاف ہے۔یہ صفت احدیت کی صفت ہے۔دنیا میں آج کل ایک مذہب بھی نہیں جو دو خداؤں یا اس سے زیادہ خداؤں کا قائل ہے۔توحید کے مسئلہ پر اصولی طور پر سب مذہب متفق ہو چکے ہیں بلکہ ایک مذہب کے پیرو دوسرے مذہب کے پیروؤں کے خلاف یہ حربہ چلاتے ہیں کہ یہ پوری طرح توحید کے قائل نہیں ہیں۔میں نے بعض یورپین مصنفین کی کتب دیکھی ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسلمان مشرک ہیں او رمیں نے سنا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں بہت سے لوگ جو اسلامی لٹریچر سے ناواقف ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان رسول کریم ﷺ کی پرستش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام طبائع اس امر کو محسوس کرتی ہیں کہ اب ایک سے زیادہ خداؤں کا مسئلہ پیش کرنا بالکل ناممکن ہے۔دنیا اس کو سننے کے لئے تیار نہیں مگر باوجود توحید کے لفظ پر سب مذاہب کے اجتماع کے توحید کے متعلق تمام میں اختلاف ہے اور کئی مذاہب ہیں جو توحید کے نام کے نیچے ہر قسم کا شرک چھپائے بیٹھے ہیں مگر اسلام شرک سے کلّی طور پر پاک ہے۔اس نے ہر قسم کی مشرکانہ باتوں کا بکلّی استیصال کیا ہے اور شرک کی اصل حقیقت کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے کسی کو دھوکا نہیں لگ سکتا۔چنانچہ قرآن کریم شرک کو چار قسم میں تقسیم کرتا ہے۔ایک قسم شرک کی تو فرماتا ہے کہ ندّ بنانا ہے یعنی یہ یقین کر لینا کہ خدا کی طرح کوئی اور خدا بھی ہے جو اس کے ساتھ ذات میں شریک ہے۔دوسرے شریک قرار دینا یعنی یہ خیال کرنا کہ کوئی ہستی اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے سب یا بعض میں اس کے ساتھ شریک ہے خواہ اس کو معبود بنایا جائے یا نہ بنایا جائے۔مثلاً یہ سمجھ لیا جائے کہ فلاں انسان مخلوق پیدا کر سکتا ہے یا مردے زندہ کر سکتا ہے گو کسی شخص کو انسان قرار دے کر ہی یہ صفات اس کی طرف منسوب کی جائیں مگر یہ شرک ہو گا کیونکہ صرف نام کا فرق ہے حقیقتاً اس شخص کو خدا ہی قرار دیا گیا ہے۔تیسری قسم کا شرک کسی کو الٰہ قرار دینا ہے یعنی کسی کی خدا کے سوا عبادت کرنی خواہ اس کو خدا نہ ہی سمجھا جائے یا خدا تعالیٰ کی صفات میں شریک قرار نہ دیا جائے جیسے کہ پرانے زمانہ میں بعض اقوام میں ماں باپ کی عبادت کی جاتی تھی۔