انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 147

۱۴۷ نہیں ہے۔یہ ایک ہی وقت میں عمل کر سکتی ہیں اور کرتی ہیں عدل رحم کے خلاف نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (الأَنعام:161) جو نیکی کرے گا اس کو دس گناہ بدلہ ملے گا اور جو بدی کرے گا اس کو اتنا ہی ملے گا جتنا اس نے عمل کیا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام کے نزدیک کسی کو اس کے حق سے زیادہ اجر دے دینا ظلم نہیں ہے بلکہ اس کے حق سے زیادہ سزا دینا ظلم ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ ظلم کہتے ہیں کسی کو اس کے حق سے زیادہ سزا دے دینے یا اس کے حق سے کم اجر دینے یا اس کا حق کسی اور کو دے دینے کو۔اور یہ کام کبھی اللہ تعالیٰٰ نہیں کرتا۔نہ کبھی کسی کو اس کے حق سے زیادہ سزا دیتا ہے نہ اس کے اجر کو کم کر دیتا ہے نہ کسی کا حق کسی اور کو دے دیتا ہے بلکہ وہ جو کچھ کرتا ہے یہ ہے کہ ایک نادم اور پشیمان بندے کو جو اپنی غلطی کو محسوس کر کے اپنے بد اعمال کو ترک کر کے ایک دھڑکتے ہوئے دل اور کانپتے ہوئے ہونٹوں اور چشمہ کی طرح جاری آنکھوں اور شرمندگی سے جھکی ہوئی گردن کے ساتھ اور آئندہ کے لئے کامل پاکیزگی اور طہارت کے خیالات سے جو متلاطم سمندر کی لہروں کی طرح جوش مار رہے ہوتے ہیں پُر دماغ سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر جا کھڑا ہوتا ہے معاف کر کے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس باپ کی طرح جس کا بچہ آوارہ ہو گیا تھا اور مدت کے بعد پشیمان ہو کر واپس گھر آیا تھا اور اپنے کئے پر ایسا پشیمان تھا کہ باپ کے سامنے آنکھیں نہیں اٹھا سکتا تھا۔محبت کے جذبات سے لبریز ہو کر اپنے سینہ سے لگا لیتا ہے اور اس کو دھتکارتا نہیں بلکہ اس کے واپس لوٹنے پر خوشی کا اظہار کرتا ہے کیا باپ کے اس فعل پر دوسرے بیٹوں کو جو اپنے باپ کی خدمت میں لگے ہوئے تھے کوئی شکوہ کا موقع ہے؟ کیا ان کے لئے کسی اعتراض کی گنجائش ہے؟ بخدا نہیں اور ہرگز نہیں۔بے شک سزا ایک بہت بڑا ذریعہ اصلاح کا ہے لیکن سچی ندامت اور حقیقی پشیمانی سے زیادہ سزا دوزخ کی آگ نہیں ہو سکتی۔جو کام دوزخ کی آگ لاکھوں سالوں میں کر سکتی ہے سچی ندامت وہ کام منٹوں میں کر جاتی ہے اور جب کوئی شخص سچے طور پر اپنی بدیوں سے توبہ کر کے اور آئندہ اصلاح پر آمادہ ہو کر خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کا تقاضا ہے کہ اس پر رحم کرے۔کیا رحیم و کریم خدا اپنے ایک عاجز بندے کو جو امید و آرزو کا مجسم نمونہ بن کر اور اپنے افعال سے بیزار ہو کر اس کی رحمت کے آستانے پر نڈھال ہو کر گر جاتا ہے دھتکار دے اور