انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 100

۱۰۰ کے چُھوت کرنے سے صلح میں فرق پڑ جاتا ہے۔ہندو صاحبان بیان کرتے ہیں کہ ہمارا تو یہ مذہبی علم ہے لیکن بفرض محال اگر ان کی یہ بات درست بھی ہو تو بھی اسی عذر کی وجہ سے مسلمانوں کا حق مارا نہیں جاتا کیونکہ گو ہندو مذ ہبی علم کی بناء پر چُھوت کرتے ہوں لیکن ان کے اس عمل کا لازمی نتیجہ یہ پیدا ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ سالانہ ہندوؤں کے گھروں میں جارہا ہے اور ہندوؤں کا روپیہ مسلمانوں کی طرف نہیں آتا اور اس کے سبب سے دولت ہندوؤں کے گھروں میں جمع ہو رہی ہے اور مسلمانوں کو مالی طور پر سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور ان کی طاقت کمزور ہوتی جارہی ہے۔اول تو ہندو تجارت میں مسلمانوں سے یونہی بڑھے ہوئے ہیں۔پھر اس چُھوت کے مسئلہ نے کھانے پینے کی چیزوں کی تجارت چو ملک کی سب بڑی تجارتوں میں سے ہے بالکل ان کے قبضہ میں دیدی ہے میں مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ ایسے طریق اختیار کریں جن سے ان کا قومی وقار قائم رہے اور ان کی دولت محفوظ رہے اور ان کے اس فعل کو منافی صلح نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ صلح کے یہ معنے نہیں کہ کوئی اپنے آپ کو برباد کر دے۔چھٹی بات جس کا فیصلہ صلح کے قیام کے لئے ضروری ہے وہ مختلف اقوام کے حقوق کا تصفیہ ہے جو نیابتی مجالس اور خدمات سرکاری کے متعلق مختلف اقوام کو حاصل ہونے چاہئیں۔اس امر کے تصفیہ میں پہلے سخت غلطی ہو چکی ہے مسلمانوں اور ہندوؤں کا پہلا سمجھوتہ یہ تھا کہ ان صوبوں میں جہاں کہ مسلمان کم ہیں ان کی تعداد آبادی کی نسبت سے نیابتی مجالس میں ان کو زیادہ حق دیا جائے اور جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہاں ہندوؤں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے۔اس سمجھوتے میں دو نقص تھے۔ایک تو یہ کہ یہ سمجھو تہ دو قوموں میں تھا حالانکہ ہندوستان میں کئی قومیں بستی ہیں اس سوال کا کوئی حل نہیں سوچا گیا تھا کہ اس تقسیم کے وقت دوسری قوموں کو کس نسبت سے حق نیابت دیا جائے گا چنانچہ پنجاب میں سکھوں کی موجودگی کی وجہ سے اس سمجھوتے نے مشکلات پیدا کر دیں۔دوسرا نقص یہ تھا کہ اس سمجھوتے کے ماتحت مسلمانوں کو گو ممبئی ،مدراس، یو پی ،بہار اور سی پی میں ان کی تعداد سے زیادہ حق نیابت مل گیا مگر پھر بھی ان صوبوں میں قلیل التعد اد وہی رہے اور ان کی آواز برادران وطن سے نیچی ہی رہی لیکن اس کے مقابلہ میں پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی کثرت قّلت سے بدل گئی۔جب یہ سمجھوتہ ہوا ہے میں نے اسی وقت اس کے خلاف آواز اٹھانی شروع کی تھی اور واقعات نے میری رائے کی صحت کو ثابت کر دیا ہے مجھے تعجب ہوا جب میں نے دیکھا کہ سمجھوتہ