انوارالعلوم (جلد 8) — Page 101
۱۰۱ کرنے والے لوگ معاملات کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھے مجھے پرانی لیگ کے بعض پُر جوش ممبروں سے گفتگو کا موقع ملا ہے۔اور میری حیرت کی کوئی انتہاءنہ رہی جب میں نے مسلمانوں کے ان نمائندوں کو مسلمانوں کے حقوق سے بالکل ناواقف پایا۔جب میں نے یہ نقص ان لوگوں کے سامنے پیش کیا کہ مسلمانوں کو سب صوبوں کی مجالس نیابتی میں قلیل التعد اد رہنے کی وجہ سے نقصان پہنچے گا اگر بنگال اور پنجاب میں وہ کثیر التعداد میں رہتے تو یہ بہتر تھا بہ نسبت اس کے کہ دوسرے صوبوں میں ان کو کچھ حق زیادہ مل جاتا کیونکہ پنجاب ہندوستان کا ہاتھ ہے اور بنگال سر۔ان دونوں جگہ کی طاقت سے مسلمان باقی صوبوں کے مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھ سکتے تھے تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ صرف پنجاب کی دوفیصدی زیادتی کو قربانی کیا گیا ہے اور نہ بنگال میں تو مسلمان کم ہی ہیں حالانکہ واقع یہ ہے کہ بنگال میں مسلمانوں کی طاقت پنجاب سے بھی بڑھ کر ہے۔واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ سودا مسلمانوں کو بہت مہنگاپڑا ہے اور بہت سے فسادات کا موجب ہواہے آئندہ معاہدہ دو قوموں کے درمیان نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایسے اصول پر ہونا چاہئے کہ خواہ کتنی بھی قو میں کیوں نہ ہوں ان کے حقوق کی حفاظت اس معاہدہ ہو کے ذریعہ ہو جائے اور جھگڑے کی صورت ہی پیدا نہ ہو اور نہ یہ نقص ہو کہ کسی قوم کی کثرت قلت میں تبدیل ہو جائے۔میرے نزدیک اس کا طریق یہ ہے کہ مسلمان اپنا پہلا مطالبہ کہ ان کو بعض صوبوں میں ان کی تعداد سے زیادہ حق نیابت دیا جائے چھوڑ دیں مدراس یا بہار میں اگر وہ چند ممبریاں زیادہ بھی حاصل کر لیں تو اس سے ان کو اس قدر فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا جس قد ر کہ بعض صوبوں میں ان کی کثرت رہنے سے ان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔اور آنند ہ نظام اس طریق پر قائم کیا جائے کہ ہر ایک قوم کو اس کی تعداد آبادی کے مطابق حق نیابت ملے۔صرف یہ رعایت ہو کہ قلیل التعداد اقوام کو اگر ان کی تعداد اس حد تک پہنچے کہ ان کو نصف ممبری کا حق ملنا ہو تو ان کو ایک پوری ممبری کا حق دیا جائے اور یہ وقت کثیرالتعد او قوم سے دلوایا جائے بشرطیکہ اس کی کثرت قلت سے نہ بدل جائے اور اسی طرح یہ استثناء کیا جائے کہ جو اقوام کہ ملک میں اہمیت رکھتی ہوں لیکن تعداد کے لحاظ سے ان کو ممبری کا حق نہ ملتا ہو ان کو ایک ممبری کا حق دیا جائے ان استثناؤں کے سوا سب اقوام اپنی اپنی تعداد کے مطابق حصہ لیں سوائے ان ممبر یوں کے جو خاص مفاد کی نیابت کرتی ہیں۔ان میں قومی سوال کو بالکل اٹھا دیا جائے مگر یہ ممبریاں کم سے کم ہونی چاہئیں اور استثنائی