انوارالعلوم (جلد 8) — Page 69
۶۹ ملازمت کرنے کا اعتراض پھر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب انگریزوں کے ملازم رہے ہیں مگر معلوم نہیں ہوا کہ یہ کیا اعتراض ہے کہاں لکھا ہے کہ نبی کا ملازم نہیں ہوا؟ میں اعتراض کرنے والوں سے پوچھتا ہوں کیا تم قرآن میں میں پڑھے کہ حضرت یوسف کافر بادشاہ کے نوکر تھے ؟ پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کرتے ہو۔اس کی یہی وجہ ہے کہ قرآن تمہارے دماغوں سے نکل گیا ہے۔تم لوگ سورة يوسف میں حضرت یوسف کے متعلق پڑھتے ہو اس کے گیت گاتے ہو اس میں لکھا ہے کہ حضرت یوسف نے کافر بادشاہ کی ملازمت کی پھر حضرت مرزا صاحب پر کیوں اعتراض کرتے ہو؟ کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ حضرت یوسف پر ایمان لے آیا تھا مگر کیا انکے قید ہونے سے پہلے یا بعد ؟ حضرت یوسف نے ملازمت تو قید سے چھوٹتے ہی کی تھی اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بھائیوں کے ان کے پاس آنے تک وہ بادشاہ ان پر ایمان نہیں لایا تھا کیونکہ خداتعالی فرماتا ہے ماكان لیاخذ أخاه في دين الملک الاان یشاء الله ۳۲؎ حضرت یوسف اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن بادشاہ کے قانون کے ماتحت نہ رکھ سکتے تھے۔اگر بادشاہ ان پر ایمان لے آیا تھا تو پھر اس کے قانون کے ماتحت نہ رکھ سکنے کا کیا مطلب ؟ قانون توسب حضرت یوسف کے اختیار میں ہوتے۔پھر بظاہر تو یہ اعتراض حضرت مرزا صاحب پر کیا گیا ہے مگر یہ پڑتا رسول کریم ﷺپر ہے جنہوں نے حضرت خدیجہ کی ملازمت کی۔۳۳؎ کیا وہ رسول کریم ﷺ کی رسالت سے قبل مسلمان تھیں؟ یا وہی جو مکہ کے لوگ تھے اگر مسلمان تھیں تو پھر حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لائیں اس کا کیا مطلب ہے اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت رسول کریم ﷺ نے نبوت کا دعوی ٰنہیں کیا تھا تو یہی بات حضرت مرزا صاحب کے متعلق کہی جاسکتی ہے کیونکہ آپ نے کبھی اس وقت تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔پھر حضرت لقمان کو یہ لوگ نبی مانتے ہیں اور ان کے متعلق ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ ایک جگہ لازم رہے۔زوج کے معنی پھر کہاگیا ہے کہ مرزا صاحب نے زوج کے معنی بہن کئے ہیں اور اس طرح اپنی بیوی کو بہن قرار دیا ہے میں کہتا ہوں کہاں گئے ان لوگوں کے علوم کہاں سے ثابت ہے کہ زوج صرف بیوی کو کہتے ہیں۔دو جڑے ہوئے آموں کو بھی زوج کہتے ہیں دوست کو بھی زوج کہتے ہیں ہاں بیوی کو بھی کہتے ہیں۔اسی طرح بہن جو توام پیدا ہوتی ہو اسے