انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 70

۷۰ زوج کہنے میں کیا حرج ہے۔یا مریم اسکن پھر کہا گیا ہے مرزا صاحب کا امام ہے یا تژیم اشن۔مگر مریم عورتہے اور اسکن مذکر کا صیغہ ہے سنا ہے کہ مولویوں نے یہ اعتراض بڑے مزے لے لے کر کیا اور بار بار لوگوں کو سنایا ہے مگر مجھے حیرت ہے کہ ان مولوی کہلانے والوں‘ عربی دانی کا دعوی ٰکرنے والوں‘ صرف و نحو اور بلاغت کے مدعیوں کو کیا ہو گیا ان کے سب علوم حضرت مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے سلب ہو گئے اور یہ علم سے بالکل جاہل اور کورے رہ لئے انہیں اتنا معلوم نہیں کہ عربی کا قاعدہ ہے کہ جب استعارہ کے طور پر مونث کا لفظ مذکر کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے لئے ضمائر مذ کر ہی آتے ہیں جیسا کہ قرآن میں بلدة میتا ۳۵۔؎ آیا ہے۔میتۃ نہیں آیا اب کیا یہ مولوی قرآن میں غلطی قرار دیں گے اور اس پٹھان کی مثال کو زندہ کریں گے جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کہیں پڑھا کہ رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھتے ہوے بچہ اٹھالیا تو کہنے لگا خوه محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا کیونکہ انہوں نے حرکت کبیرہ کیا اور قدوری میں لکھا ہے کہ اس طرح نماز ٹوٹ جاتا ہے۔اسی طرح اب یہ مولوی صاحب بھی کہیں کہ قرآن میں میتا کی بجائے مت آنا چاہئے تھا اور یہ قرآن کریم کی غلطی ہے اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے السماء منفطر بہ حالا نکہ سماء کا لفظ جبکہ مونث ہے تو کہنا چاہئے تھا السماء منفطرة ؛ لیکن اونچی چیز چونکہ مذکر ہے۔اس لئے منفطر مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا یہ بھی ان لوگوں کے نزدیک قرآن کریم کی غلطی ہوگی اس کی بھی اصلاح ہونی چاہئے۔ان کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جسے کسی نے کہا تھا قرآن لکھ دو وہ لکھ کر لے آیا لکھانے والے نے پوچھا ٹھیک لکھاہے کوئی غلطی تو نہیں رہ گئی؟ کہنے لگا میں نے تو ٹھیک لکھا ہے لیکن پہلے قرآن میں بعض غلطیاں تھیں ان کی اصلاح کر دی ہے چونکہ قرآن کریم کلام اللہ ہے جو پاک ہے اور کوئی بُرا لفظ اس میں نہیں ہونا چاہئے اس لئے جہاں جہاں شیطان یا فرعون یا ابلیس یا خنزیر وغیرہ الفاظ تھے وہاں کہیں میں نے اپنے باپ کا نام لکھ دیا ہے اور میں تمہارے باپ کا۔یہی مثال ان آج کل کے مولویوں کی ہے یہ بھی ان الفاظ کو کاٹ دیں جو ان کے علم اور عقل کے ماتحت غلط ہیں اورا نکی جگہ اور رکھ دیں۔خاتم الکمالات کا مطلب پھر کہا گیا ہے چونکہ مرزا صاحب نے کہا ہے مجھے پر کمالات ختم ہوتے ہیں میرے بعد اب کوئی کامل نہ ہو گا اس لئے مرزا صاحب