انوارالعلوم (جلد 8) — Page 31
۳۱ تھی کہ جس دن’’ لوح محفوظ ‘‘چھپ جائے گی وہ احمدی جماعت کے واسطے ماتم کا دن ہو گا۔مستری قادر بخش یا اس کے لڑکے کو میں نے کوئی تبلیغ بہائی مذہب کی نہیں کی۔صرف معمولی گفتگو اس سے ہوئی تھی۔اس وقت سید عزیز الرحمن سے ماسٹر علی محمد صاحب۔بی۔اے۔بی۔ٹی کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ میں ابھی حضرت صاحب کو ایک پرچہ لکھ کر بھیجوں گا تو بہاء اللہ بیٹھ جائے گا میں نے اظہر صاحب کو یہ کہا تھا کہ میں نے کتاب ”اقدس" پڑھی ہے۔اس میں بہاء اللہ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔انہوں نے مجھ سے وہ کتاب مانگی لیکن میں نے کہا کہ ماسٹر نواب الدین لے گیا ہے۔ماسٹراظہرنے اصل کتاب ”اقدس\" کا مطالبہ مجھ سے کیا تھا تو میں نے اس کتاب کو مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اگزبٹ نمبر۳ میں جس کتاب کے بھیجنے کا وعدہ میں نے کیا ہے۔وہ المعيار الصحیح\" ہے۔وہ مصطفےٰ رومی کی کتاب ہے۔قاضی عبد الرشید دکاندا رڈلے والے کو جانتا ہوں۔اس کے پاس سے میں تشحیذ کا ایک نمبر لایا تھا۔اس رسالے میں بہاء اللہ کے خلاف ایک مضمون تھا۔میں نے اسی پر اس کے جواب نوٹ کر دیئے تھے۔وہ رسالہ میں نے واپس نہیں کیا تھا۔وہ نوٹوں والا رسالہ میرے پاس موجود ہے۔اس کا بدل واپس کر دیا تھا۔اس سے بھی میرا تبادلہ خیالات ہوتا رہتا ہے۔قاضی عبدالسلام صاحب کو میں جانتا ہوں۔ان سے میری خط و کتابت نہیں ہے۔مولوی ظلّ الرحمنٰ صاحب سے بھی کوئی تبادلہ خیالات نہیں ہوا۔میں کتب ’’برہان الصريح‘‘ عمدة التنقيح\" دے نہیں سکتا کیونکہ وہ مولوی محفوظ الحق صاحب کی ہیں میں نہیں دے سکتا۔دستخط ) ایم عبد الصمد عمر- احمد الله دتہ قادیان میں مذہبی آزادی ان بیانات کے سنانے کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ یہاں تمام لوگ جانتے ہیں کسی جگہ بھی دنیا میں غیرمذاہب کے لوگوں کو اس طرح امن میں رہنے کا موقع نہیں دیا جا تا جیسا کہ ہم یہاں دیتے ہیں۔کچھ عرصہ عبدالجبار ایک شخص کئی ماہ یہاں رہ گیا۔وہ بہائی مذہب کی تبلیغ کرتا رہا اور اسے کھانا ہم کھلاتے رہے اور اسے اپنے ہاں مہمان رکھا ہر طرح عزت کی حالا نکہ وہ مجھے ایک دن بھی ملنے نہیں آیا۔یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس کے آنے کا منشاء یہ نہ تھا کہ ہم سے کچھ سیکھے یا تبادلہ خیالات کرے کیونکہ وہ اگر اس لئے آتا تو اس کا فرض تھا کہ مجھ سے ملتا مگر وہ میرے پاس نہ آیا