انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 575

۵۷۵ لندن کے نومسلموں کو پیغام احمدیت (فرموده ۱۲۔اکتوبر ۱۹۲۴ء) أعوذ بالله من الشيطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – ھو الناصر ہمشیرگان و برادران السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ‘میں نے آج آپ کو ایک تو اس لئے تکلیف دی ہے کہ اب چند دنوں میں مَیں اور میرے احباب جانے والے ہیں آپ لوگوں سے پھر ایک دفعہ ملاقات ہوجائے اور دوسرے ایک اور ضروری اور اہم غرض کے لئے بلایا ہے جس کا بیان کرنا ممکن ہے کہ آپ میں سے بعض کے لئے تکلیف کا موجب ہو لیکن چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا بیان کرنا مجھ پر فرض ہے اس لئے میں اس کے بیان کرنے سے نہیں رُک سکتا اور میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ بھی اس پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ جماعت جس کا مَیں اس وقت امام ہوں ایک علیٰحدہ نام سے پکاری جاتی ہے اور اس کا انتظام دوسری اسلام کی طرف منسوب ہونے والی جماعتوں سے بالکل الگ ہےیہ فرق اور یہ اختلاف کس وجہ سے ہے ؟ کیا کسی ایک عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے ؟کیا عبادت کی کسی تفصیل کے اختلاف کی وجہ سے ؟ نہیں ہرگز نہیں- اگر یہ اختلاف ہوتا تو میں ہرگز اس اختلاف کی وجہ سے ایک علیحدہ نام کے نیچے کام کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا کیونکہ میرے نزدیک اتحاد جماعت تمام اجتہادوں پر مقدم ہے- ہر ایک اجتہاد خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس قابل ہے کہ اسے اتحاد کی خاطر نمایاں نہ ہونے دیا جائے۔پس اس اختلاف کی وجہ کوئی اجتہادی امر نہیں ہے بلکہ اس کا موجب یہ ہے کہ احمدی جماعت کے بانی کا یہ دعویٰ تھا کہ بوجہ اس کے کہ مسلمان اپنے عقیدوں اور اپنے عملوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے بالکل دُور ہوگئے تھے- خدا تعالیٰ نے اپنی قدیم سنت کے مطابق آپ کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ حقیقی اسلام کو قائم کریں اور اس سچی روح کو دلوں میں پیدا کریں جس کے بغیر کوئی مذہبی ترقی ہو نہیں سکتی-