انوارالعلوم (جلد 8) — Page 521
۵۲۱ ہندوستان کے حالات حاضرہ اور اتحاد پیدا کرنے کے ذرائع (اس لیکچر کا انگریزی ترجمہ ڈنچ ہال لندن میں مؤرخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۲۴ء کو پڑھ کر سنایا گیا) أعوذ بالله من الشيطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – ھو الناصر ہندوستان کے حالات حاضرہ اور اتحاد کے پیدا کرنے کے ذرائع صدر جلسہ، بہنواور بھائیو! گو میں ایک ایسا آدمی ہوں جس کی زندگی دینی کاموں کے لئے وقف ہے لیکن سیاست گومذہب میں داخل نہیں مگر کئی پہلوؤں سے اس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور چونکہ دنیا کے امن کا قیام مذہب کی سب سے بڑی غرضوں میں سے ہے جو کبھی قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ سیاسی امن بھی قائم نہ ہو- اس لئے میں نہایت ہی خوش ہوں کہ مجھے ہندوستان کے موجودہ حالات اور ان کے علاج کے متعلق بولنے کا موقع ملا ہے۔میرا کسی پولیٹیکل پارٹی سے تعلق نہیں پیشتر اس کے کہ میں اپنے مضمون کو شروع کروں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے ہندوستان کی کسی پولیٹیکل جماعت سے تعلق نہیں ہے- بہت سے لوگ ہمیں گورنمنٹ کا خوشامدی کہتے ہیں لیکن جو شخص بھی ہمارے حالات سے واقف ہے جانتا ہے کہ ہماری پالیسی ایک آزاد پالیسی ہے- ہم جیسا موقع ہو گورنمنٹ کی پالیسی پر یا قوم پرستوں کی پالیسی پر نکتہ چینی کرنے سے باز نہیں رہتے۔مگر ہاں ہمارا یہ اصل ہے کہ ہمیں کبھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے کہ ملک کی قائم شدہ گورنمنٹ کے لئے کام کرنا مشکل ہوجائے ورنہ ہم گورنمنٹ سے نہ کسی انعام کے امیدوار ہوتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں کہ گورنمنٹ ملکی خدمات کے بدلے میں لوگوں کو انعام دے کیونکہ اس سے