انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 522

۵۳۲ نیک نیتی کی خدمت کی روح مرجاتی ہے اور ملک کو انجام کار نقصان پہنچتاہے۔ہندوستان کی جغرافیکل حالت اس تمہید کے بعد میں سب سے پہلے ہندوستان کی جغرافیکل اور سوشل حالت بیان کرنی چاہتا ہوں کیونکہ بغیر اس حالت کے علم کے کوئی شخص ہندوستان کے متعلق صحیح اندازہ نہیں لگاسکتا- ہندوستان ایک ایسا ملک ہے- جس کے شرقی اور شمالی طرف چینی حکومت ہے اور شمال مغربی طرف افغانستان کی حکومت- چینی حکومت گو خود ایسی نہیں ہے کہ اس کے ہندوستان پر حملہ کی امید کی جائے مگر چینی سرحد پر ایسی ریاستیں موجود ہیں کہ جو جنگی نسل کے لوگوں سے آباد ہیں اور اگر ہندوستان کسی وقت کمزور ہو جائے تو بعید نہیں کہ وہ ہندوستان کے بعض حصوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں جس طرح کہ وہ پہلے بھی کرتی رہی ہیں- افغانستان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگوں کو یہ یقین ہے کہ ہندوستانی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور پرانی روایات ان کے جوشوں کو قائم رکھتی ہے- افغان اپنے دل سے اس بات کو نہیں نکال سکتے کہ ہمیشہ ہندوستان شمالی حملہ آوروں کے حملوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہا ہے- پس اگر ہندوستان میں حکومت طاقتور نہ ہو تو ہندوستان ہر وقت بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ نہیں ہے- ان حملوں کے علاوہ جو خشکی کی طرف سے ہوسکتے ہیں سمندر کی طرف سے بھی ہندوستان محفوظ نہیں ہے- او یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ہندوستان میں حکومت کے کمزور ہونے پر سولھویں اور سترویں صدی کی دست درازیوں کا زمانہ پھر نہ آجائے گا اور بعض چھوٹے چھوٹے علاقے وسیع ہونے والی حکومتوں کے لئے بیج کاکام نہ دیں گے۔قومی حالت قومی حالت ہندوستان کی یہ ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک محتلف قوموں کا جال پھیلا ہوا ہے- باہر سے آنے والی قوموں میں سے پٹھان سب سے زیادہ ہیں پھر سید ، مغل اور قریشی ہیں- ان کے علاوہ اور چھوٹی چھوٹی قومیں بھی ہیں- خود ہندوستان کی بہت سی قومیں ہیں- برہمن، راجپوت، مرہٹے، جاٹ گوجر، بنئے، ارائیں، کشمیری، ککے زئی- ان میں سے اکثر قوموں میں پھر تقسیم ہے یعنی مسلمان اور ہندو کی- ان قوموں کے علاوہ شودریا نجس اقوام بہت سی ہیں جیسے چوڑھے، چمار، گونڈ، بھیل، ناسودراز وغیرہ- یہ تمام قومیں ابھی تک اپنی علیحدہ ہستی کو قائم رکھے چلی جاتی ہیں اور ان میں ایسا قومی اتحاد ہے کہ کوئی خارجی اثر اس کو مٹا نہیں سکتا- ہندوستان کے الیکشن اس قدر لیاقت یا اصول کی بنیاد پر نہیں ہوتے جس قدر کہ قومیت کی بنیاد پر- جب کوئی شخص کسی لوکل یا امپریل