انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 444

۴۴۴ دوره یو رپ گا۔میں نے ان کے گھر پر بھی بعض دوستوں کو ملنے کے لئے بھیجا۔انہوں نے سلسلہ سے بہت ہی ہمدردی ظاہر کی اور سلسلہ پر غور کرنے اور ہر طرح سے امداد کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے شکایت کی کہ مصر میں آکر پہلی عربی بھی بھول گیا اور دین تویہاں ہی نظر نہیں آتا۔دوسرے صاحب ایک وکیل تھے ان کے گھر پر بھی میں نے اپنے بعض ساتھیوں کو بھیجا۔انہوں نے بہت ہی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میں تین گھنٹے مکان پر انتظار میں بیٹھارہا مگر ملاقات کا موقع نہ ملا اور مصریوں کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی کہ مصر میں احمد یہ مشن کو مضبوط کیا جائے۔اور یورپ کو مسلمان بنانے کی بجائے مصر کو یورپ کے پیچھے جانے سے بچانے کی کوشش پر زور دیا جائے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر واپسی پر مصر میں قیام کا موقع ملے تو میں اپنے دوستوں کو جمع کر کے آپ کے امام کو دعوت دوں گا۔اور ہم لوگ مل کر اسلامی روح کی مصر میں اشاعت کی کوشش کریں گے۔اور یہ بھی کہا کہ میں احمدیت کے مسائل سے بہت متفق ہو چکاہوں۔غالباً آپ لوگوں کی ولایت سے واپسی تک میں بیعت میں شامل ہو جاؤں گا۔چونکہ گرمی کا موسم ہے تمام عمائد اور علماء ملک کے ٹھنڈے علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں اس لئے اور زیادہ لوگوں سے ملنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔مصر کے احمدی مجھے جو مصر میں سب سے زیادہ خوشی ہوئی وہ وہاں کے احمدیوں کی ملاقات کے نتیجہ میں تھی۔تین مصری احمدی مجھے ملے اور تینوں نہایت ہی مخلص تھے۔دو ازہر کے تعلیم یافتہ اور ایک علوم جدیدہ کی تعلیم کی تحصیل کرنے والے دوست۔تینوں نہایت ہی مخلص اور جوشیلے تھے اور ان کے اخلاص اور جوش کی کیفیت کو دیکھ کر دل رقّت سے بھر جاتا تھا۔تینوں نے نہایت درد دل سے اس بات کی خواہش کی کہ مصر کے کام کو مضبوط کیا جائے۔ایک مصلح کے امیدوار بدوی ایک بات عجیب طور پر وہاں معلوم ہوئی اور یہ کہ قاہرہ کے ارد گرد کے بدوی علاقے نہایت تڑپ ہی کے ساتھ ایک مصلح کے امیدوار ہیں۔بعض لوگوں نے جب سلسلہ کے حالات سُنے تو خواہش کی کہ اگر ہمارے علاقہ میں کوئی آدمی پندرہ بیس روز بھی آکر رہے تو ہزاروں آدی سلسلہ میں داخل ہونے کو تیار ہیں۔