انوارالعلوم (جلد 8) — Page 341
۳۴۱ رغبت دلا ئی کیونکہ عبادت کی نہیں بلکہ ترقیات روحانیہ کاذریعہ ہیں۔روزے جو اس زمانہ میں دوسرے مذاہب سے تو بالکل مفقود ہو گئے تھے مسلمانوں میں سے بھی تعلیم یافتہ لوگوں میں ان کا بالکل رواج نہ رہا تھا آپ نے ان کی ضرورت کو بھی روحانی اور جسمانی دلائل سے ثابت کیا اور ان کی طرف لوگوں کو تو جہ دلائی - اسی طرح ذکر ،حج اور قربانی کی حقیقت کو روشن کر کے ان پر کاربند ہونے کی تعلیم دی۔تمدنی غلامی سے بھی آپ نے لوگوں کو چھڑایا اور اس بھیڑ چال کی غلطی ان پر ظاہر کی جس میں وہ مبتلاء تھے اور اسلامی تمدنی تعلیم کی خوبی کو ظاہر کیا ،سود کی برائی کو ظاہر کیا ،پردہ کی خوبیوں کو واضح کیا کثرت ازدواج کی ضرورت کو ثابت کیا ،طلاق کی اہمیت کو بیان کیا، غرض وہ مسائل جن کے متعلق لوگ زمانہ کی رَو کو دیکھ کر بول نہیں سکتے تھے ان کے متعلق على الاعلان اسلامی تعلیم کو پیش کیا اور زمانہ کے خیالات کی پرواہ نہیں کی۔میں اس جگہ ان پرانے وساوس اور شبہات کا جو غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں رائج تھے اور جن کا آپ نے مقابلہ کیا اس جگہ ذکر نہیں کرتا کیونکہ کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ خود ان کی اصلاح کر رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعلیم کا جو آپ نے زمانہ کی رَو کے خلاف دی یہ اثر ہوا کہ لاکھوں آدمی جو زمانہ کی رَو میں بہے جاتے تھے ان کو ہوش آگئی اور وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے سوچا اور اسلامی تعلیم کو سب تعلیموں سے افضل پایا۔وہ لوگ جو پہلے دہریت اور مادہ پرستی کا شکار تھے جو خداتعالی کی عبارت تو کیا کرنی تھی اس کے وجود کے ہی منکر ہو رہے تھے ان کو آپ نے تہجد گزار اور ذاکر بنا دیا۔ان کے دماغ مغربی تعلیم سے روشن ہیں اور ان کے فکر جدید افکار پر محتوی مگر ان کے دل محبت الہٰی سے لبریز ہیں اور ان کے ماتھے خداتعالی کے حضور میں جھکے رہتے ہیں۔رات اور دن وہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں بسر کرتے ہیں اور باوجود اعلی درجہ کی تعلیم کے وہ دین کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔تمدن کی غلامی سے بھی آپ نے بہت سے لوگوں کو چھڑا کر عقل کے حُریت خیز میدان میں لا کھڑا کیا ہے۔باوجود زمانہ کی مخالفت کے آپ کی جماعت تمدنی اصلاح میں مشغول ہے اور اس کی عمارت کو طلبِ فرحت اور عیاشی کی بنیادوں سے ہٹا کر اصلاح اور عفّت اور اخلاق پر کھڑا کر رہی ہے۔