انوارالعلوم (جلد 8) — Page 331
۳۳۱ دیا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ اگلے جہاں کا اندھا پن اس دنیا کے روحانی اندھے پن کے سبب سے ہو گا۔پس صاف ثابت ہے کہ اسلام کے نزدیک اگلے جہاں کے تمام دکھ اور سکھ کے سامان گو ایک قسم کا جسم رکھیں گے مگر ہوں گے اس دنیا کے اعمال کے تمثلات نہ کہ کوئی نئی چیز۔تفصیلی طور پر بھی جو چیزیں اگلے جہان کی بتائی ہیں ان سے یہ امر معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن میں فرماتا ہے کہ جنت میں ایک قسم کی شراب ملے گی مگر فرماتا ہے کہ وہ شراب ایسی ہو گی کہ دل کو پاک کرے گی۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ جسمانی چیز دل کو پاک نہیں کر سکتی پس شراب سے مراد وہی محبت الٰہی ہے جو اس دنیا میں انسان کو خدا تعالیٰ سے حاصل تھی وہی اگلے جہاں میں شراب کی شکل میں دکھائی جائے گی جس طرح کہ خواب میں انسان روحانی حالتوں کو جسمانی شکلوں میں دیکھتا ہے چنانچہ جب اس شراب کو انسان پئے گا تو چونکہ محبت الٰہی ہی اس شکل میں متمثل ہو گی کوئی مادی شراب نہ ہو گی اس لئے اس سے دل پاک ہوں گے اور خد اکی محبت اور بھی بڑھے گی۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام نے اگلے جہان کی نعمتوں اور اگلے جہان کی سزاؤں کو جہاں جسمانی قرار دیا ہے وہاں ان کو ساتھ ہی روحانی بھی قرار دیا ہے اور درحقیقت یہی اصلی اور صحیح کیفیت ہے۔جن لوگوں کو اصل حقیقت معلوم نہ تھی انہوں نے یا تو ان کو جسمانی ہی قرار دے دیا ہے یا صرف قلبی کیفیات سمجھ لیا ہے حالانکہ دونوں امور عقل کے خلاف ہیں۔نہ وہاں جسمانی چیزیں ہو سکتی ہیں اور نہ خالص قلبی احساسات اس غرض کو پورا کر سکتے ہیں اور نہ کوئی لطیف شئے جو مخلوق ہو بغیر ایک اپنی نسبت کثیف جسم کے رہ سکتی اور اپنی طاقتوں کا اظہار کر سکتی ہے۔" اگلے جہان کے عذاب اور ثواب کہاں اور کس صوت میں ہونگے؟ "ایک سوال یہ ہے کہ عالم آخرت کے عذاب اور ثواب کہاں ہوں گے؟ اور کس صورت میں ہوں گے؟ اس سوال کا جواب اسلام نہایت ہی لطیف پیرایہ میں دیتا ہے جس کے مقابلہ میں دوسرے ادیان بالکل خاموش ہیں۔اسلام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دوزخ درحقیقت ان عذابوں کا نام ہے جو حواسِ سبعہ کے ذریعہ سے محسوس ہوں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَهَا