انوارالعلوم (جلد 8) — Page 330
۳۳۰ ہے ہم انسان سے کہیں گے اب اپنی کتاب پڑھتا رہ یعنی ان اعمال کے مطابق ترقی یا تنزل حاصل کر اور ان کا نتیجہ بھگت۔ہمیں تیرا حساب لینے کی ضرورت نہیں۔تیرا نفس خود تجھ سے حساب لیتا رہے گا۔یعنی جو اثرات تیرے اعمال نے پیدا کئے ہیں وہ تیرے لئے سزا کےطور پر بھی اور انعام کے طور پر کافی ہیں ہمیں کسی نئی سزا اور جزاء کے دینے کی ضرورت نہیں۔دیکھو یہ آیت کس وضاحت سے بتاتی ہے کہ اگلے جہاں کی نعمتیں اور سزائیں اسی دنیا کے اعمال کے تمثلات ہیں۔ایک دوسری جگہ قرآن کریم فرماتا ہےإِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا () عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا(الإِنْسان:6-7) نیک لوگ وہاں ایسے پیالوں سے پیئں گے جن کا اثر کافوری ہو گا یعنی وہ ناجائز جوشوں کو دبانے والے ہوں گے۔ایسے چشموں سے وہ پیالے بھرے جائیں گے جو چشمے کہ مومنوں نے بڑی محنت سے پھوڑے ہیں۔یعنی دنیا میں جو عمل وہ کرتے رہے ہیں وہی بطور مثال اس وقت چشموں کی صورت میں ظاہر ہوں گے وہ کوئی الگ شئے نہیں۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے۔وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى (بنی اسرائیل:73) جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ اگلے جہاں میں بھی اندھا ہو گا یعنی جس نے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھوں سے نہیں دیکھا وہاں چونکہ یہی روح بمنزلہ جسم کے ہو گی وہ اپنے آپ میں اندھوں کی قسم کی ایک کیفیت محسوس کرے گا۔ایک اور جگہ فرماتا ہے وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى () قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا () قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى (طه:125-127) ایسا شخص جو اس دنیا میں میری یاد سے بے پرواہ رہتا ہے اور مجھے تلاش کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتا وہ ایسی زندگی بسر کرے گا جو اس کی روحانی طاقتوں کو بالکل محدود کرتی چلی جائے گی اور آخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کی روح جب اپنی طاقتوں کو مکمل کر لے گی اور وہ وقت آئے گا جو دوسری روحانی زندگی کے لئے بمنزلہ پیدائش کے ہے تو وہ اندھا ہو گا گویا نئی پیدائش میں وہ اندھا ہی پیدا ہو گا۔تب وہ گھبرا کر کہے گا کہ خدایا یہ کیا ہوا؟ کہ میں تو اُس دنیا میں سوجاکھا تھا اب تو نے مجھے اندھا کیوں پیدا کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسی طرح تو نے میرے کلام کو ترک کر دیا تھا پس میں نے بھی تجھے تیرے اعمال کے مطابق نتیجہ نکلنے کے لئے چھوڑ