انوارالعلوم (جلد 8) — Page 326
۳۲۶ قبر میں ڈالتا ہے۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ ہر اک شخص قبر میں داخل نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سے لوگ جلائے جاتے ہیں بعض کو جانور کھا جاتے ہیں بعض سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں۔پس اس قبر سے مراد وہ مقام ہے جہاں ارواح رہتی ہیں نہ یہ قبر جس میں بے جان جسم پڑا ہوتا ہے تا افتراق و تحلیل کے ابدی قانون کو اپنے اوپر پورا کرے۔ثواب و عذاب اخروی جسمانی ہیں یا روحانی؟ : ا اس امر کے بتانے کے بعد کہ اسلام انسانی روحانی کی ما بعد الموت حالت کیا بتاتا ہے۔اب میں اس سوال کے متعلق اسلام کی تعلیم بتانا چاہتا ہوں کہ اگلے جہاں کی نعمتیں یا سزائیں جسمانی ہیں یا روحانی؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کے نزدیک اگلے جہان کی کیفیات جسمانی بھی ہیں اور روحانی بھی۔جسمانی تو وہ ان معنوں میں ہیں کہ روح انسانی معاً ترقی کر کے اپنے لئے ایک جسم تیار کر لے گی۔پس وہاں کی لذات اور تکالیف اسی طرح مرئی صورت میں متمثل ہوں گی جس طرح کہ اس دنیا میں ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں اور روحانی ان معنوں میں کہ وہ اس مادہ کی نہیں ہوں گی جس مادہ کی اس دنیا کی چیزیں ہیں اور یہ ہو بھی کب سکتا ہے کیونکہ اس دنیا سے روح کو دوسرے جہان میں منتقل تو اسی وجہ سے کیا گیا ہے کہ وہ ان لطیف طاقتوں کو حاصل کرے جن کے ذریعہ سے وہ ان لطائف کو معلوم کر سکے جن کو یہ جسم معلوم نہیں کر سکتا۔اب اگر وہاں اسی قسم کے میوے اور اسی قسم کے دودھ اور اسی قسم کے شہد ہوتے ہیں اور اسی قسم کی آگ اور اسی قسم کا دھواں ہونا ہے جیسے کہ اس دنیا میں ہے تو روح کو جسم سے جدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔پھر تو چاہئے تھا ک جسم ہی کے ساتھ اس کو اٹھا لیا جاتا اور جبکہ وہاں کا جسم بھی موجودہ روحانی حالت کے مشابہ ہے تو اس کی غذائیں دودھ اور شہد اور اس کی سزا آگے اور گرم پانی کس طرح بن سکتے ہیں۔کیا اس وقت انسانی روح یہاں کی آگ اور یہاں کے پانی اور یہاں کے میووں کو استعمال کر سکتی ہے کہ وہاں وہ ان کو استعمال کر سکے گی۔غرض یہ درست نہیں کہ مرنے کے بعد انسان اسی دنیا کی قسم کی چیزوں سے عذاب یا ثواب دیا جائے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ وہاں لطیف روحانی اجسام کے ساتھ بعض چیزیں متمثل ہو کر انسان کے سامنے پیش ہوں گی۔بدوں کے سامنے سزا کی چیزیں اور نیکوں کے سامنے نیکی کی چیزیں۔کیونکہ زندگی کی حقیقت کامل طور پر محسوس نہیں ہو سکتی جب تک لطیف چیز اپنی لطافت کے