انوارالعلوم (جلد 8) — Page 258
۲۵۸ کر ایسے لوگوں کی صحبت میں جا کر رہتے ہیں جو ان کی طبائع پر نیک اثر ڈال سکیں اور ان کی مقناطیسی تأثیر کی مدد سے اپنے لمبے سفر کو طے کر لیتے ہیں اور اپنے شاہد مقصود کو پا لیتے ہیں۔دوسرا راستہ جو اسلام نے نیکیوں کے حصول کے لئے کھولا ہے وہ احکام بھی ہیں جو حلال اور حرام سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ اس وقت تک دنیا نے اس عظیم الشان صداقت کو محسوس نہیں کیاکہ انسان کی خوراک کا اس کے اخلاق پر نہایت ہی گہرا اثر پڑتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اس صداقت کو محسوس نہیں کیا بلکہ اس امر میں اسلام پر لوگ نکتہ چینی کرتے ہیں حالانکہ یہ امربدیہیات سے ہے اور ہر روز اس کی صداقت کے نئے ثبوت ملتے جاتے ہیں۔بہرحال دنیا کچھ بھی کہے قرآ ن کریم فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا (المؤمنون:52) اے رسولو! پاک اشیاء کھاؤ۔اس کے نتیجہ میں تم کو نیک عمل کرنے کی توفیق ملے گی۔اس آیت سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ اس میں صرف نبیوں کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ اس میں نبیوں کو مخاطب کیا جاتا ہے اور مراد سب متبع ہوتے ہیں۔مذکورہ بالا قاعدہ کے ماتحت اسلام نے کھانے پینے کے متعلق مختلف احکام دئیے ہیں جن کو لوگ رسم خیال کرتے ہیں لیکن قرآن کریم مدعی ہے کہ وہ اپنے اندر عظیم الشان حکمتیں رکھتے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ دنیا کے لوگ اس کو تو تسلیم کرتے ہیں کہ جمادات کی جو خصوصیات ہیں یا نباتات کی جو خصوصیات ہیں ان کا اثر تو انسان پر پڑتا ہے مگر وہ اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ حیوانات کا گوشت کھانے سے بھی کوئی اثر انسان پر پڑتا ہے حالانکہ جس طرح اور چیزوں کا اثر انسان کی طبیعت پر پڑتا ہے ان کا بھی پڑنا چاہئے اور کسی جانور کے خاص اخلاق اس کے کھانے والے میں ضرور پیدا ہونے چاہئیں۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ اب جلد لوگ اس حقیقت کو قبول کر لیں گے کیونکہ اب یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ بعض جانوروں کے کھانے سے انسان ننگا ہونے کی اور بعض کے استعمال سے اپنی طاقت کو ناجائز طور پر خرچ کرنے کی خواہش محسوس کرتا ہے جب یہ علم او ر ترقی کر گیا تو اسلام کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔خلاصہ یہ کہ مذکورہ بالا اصل کو تسلیم کر کے اسلام نے خوراک کے احکام کو ایک قانون پر مبنی رکھا ہے اور وہ قانون یہ ہے کہ چونکہ انسان کو اپنے تمام طبعی جذبات کو بڑھانے کی ضرورت ہے اس لئے اسے ہر قسم کی غذائیں کھانی چاہئیں سوائے ان غذاؤں کے جن کے استعمال سے کوئی حد