انوارالعلوم (جلد 8) — Page 250
۲۵۰ سامان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے یعنی تم حسد تو اس لئے کرتے ہو کہ فلاں شخص کو مجھ سے زیادہ سکھ کیوں ہے؟ لیکن اس ذریعہ سے تم اپنے پہلے سکھ کو بھی برباد کر لیتے ہو اور اپنے آپ کو اور دکھ میں ڈالتے ہو۔پھر اس کام کا فائدہ کیا جو تم کو اور تکلیف میں ڈال دیتا ہے۔لوگوں کو حقیر جاننے کے متعلق فرماتا ہے۔لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ (الحجرات:12) ایک قوم دوسری قوم کو حقیر نہ جانے کیونکہ زمانہ بدلتا رہتا ہے آج ایک قوم بڑی ہوتی ہے تو کل دوسری بڑھ جاتی ہے۔آج ایک خاندان ترقی پر ہوتا ہے تو کل دوسرا ترقی کرتا جاتا ہے۔اگر اس طرح ایک قوم دوسری قوم کو حقیر جانے گی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جب وہ برسر حکومت آئے گی بوجہ پچھلے اشتعال کے پہلی قوم کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے گی اوریہ ایک عجیب سلسلہ فساد کا پیدا ہوتا چلا جائےگا حالانکہ جس فعل کا یہ نتیجہ نکلے گا وہ بالکل بے فائدہ ہے کیونکہ جب ترقی کا میدان بدلتا رہتا ے تو ایک قوم کو کیا حق ہے کہ دوسروں کو حقیر سمجھے۔زنا کے متعلق فرماتا ہے كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (بنی اسرائیل:33) اول تو یہ فعل فحش ہے یعنی اس سے دل میں ناپاکی پیدا ہوتی ہے کیونکہ جرم کا احساس اور چوری کا خیال دل میں پیدا ہوتا ہے دوسرے یہ اس مقصود کے حصول کے لئے جس کے واسطے عورت اور مرد کے تعلقات قائم کئے جاتے ہیں غلط راستہ ہے کیونکہ شہوت کی اصل غرض تو بقائے نسل کی غرض پورا کرنا ہے۔چونکہ نسل کو محفوظ رکھنا ضروری ہے اس لئے یہ خواہش انسان میں پیدا کی گئی ہے جو اسے اصل مقصود کی طرف مائل کرتی رہتی ہے اور ناجائز تعلقات سے تو اصل غرض برباد ہو جائے گی کیونکہ نسل محفوظ نہیں رہے گی یا مشتبہ ہوجائے گی۔پس اس راستہ سے تو اصل مقصد نہیں مل سکتا اور اگر کبھی مل بھی جائے تو سیدھے راستہ کو ترک کر کے ٹیڑھا راستہ انسان کیوں اختیارکرے۔بخل کے متعلق فرماتا ہے فمنکم من یبخل و من یبخل فانما یبخل عن نفسہ یعنی بعض لوگ تم میں بخل کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ بخل کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ جو بخل کرتا ہے اس کا ضرر اور نقصان اسی کی جان کو پہنچتا ہے یعنی نہ وہ اچھی غذا کھاتا ہے نہ اچھا لباس پہنتاہے نہ عمدہ مکان میں رہتا ہے روپیہ جمع کرتا چلا جاتا ہے جس سے سوائے روپیہ کی حفاظت کی فکر کے اسے فائدہ کوئی نہیں ہوتا واقع میں اگر غور کیا جائے تو جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی جان کو ہی دکھ میں ڈالتے ہیں اور ان کا روپیہ خود ان ہی کے لئے وبال ہوتا ہے۔