انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 227

۲۲۷ دوسرے کی ذات پر ڈالنے کا ارادہ کیا جاتا ہے یا دوسرے کی ذات پر ان کا اثر ڈال دیا جاتا ہے۔مذکورہ بالا تقسیموں سے آپ لوگوں نے اچھی طرح معلوم کر لیا ہو گا کہ اسلام نے اخلاق کو دوسرے مذاہب کی نسبت وسیع کر دیا ہے یعنی اخلاق کا دائرہ صرف دوسروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ خود انسان کے نفس کو بھی اس کے اندر شامل رکھا ہے چنانچہ قرآن کریم صاف طور پر اس مسئلہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتا ہے کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة:106) اپنی جانوں کی خبر رکھو اور ان کے روحانی حقوق ادا کرو۔حتیٰ کہ اگر کسی شخص کی نجات اس طرح ممکن سمجھی جاتی ہو کہ تم اپنے آپ کو گناہ میں ڈال لو تو ہرگز ایسا نہ کرو کیونکہ اگر کوئی شخص تمہاری ہدایت پر قائم رہنے او رنیکی کے اختیار کرنے میں گمراہ ہوتا ہو تو اللہ تعالیٰ تم پر اس وجہ سے ناراض نہیں ہو گا اور یہ ہرگز نہیں کہے گا کہ تم نے کیون بدی کو اختیار کر کے اس شخص کو گناہ سے نہ بچا لیا۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ لنفسک علیک حق تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے یعنی صرف دوسرے لوگوں کا خیال ہی ضروری نہیں بلکہ اپنے نفس سے باطنی اور ظاہری نیکی کرنی یعنی اس کی روحانی اور جسمانی ربوبیت کا خیال رکھنا بھی تیری لئے ضروری ہے۔اس تعلیم اسلام کے ماتحت جو شخص ظاہری تکبر کرتا ہے اسی کو بد اخلاقی نہیں کہا جائے گا بلکہ جو شخص ظاہری تواضع اور انکسار کا طریق برتتا ہے لیکن اپنے دل کے مخفی کونوں میں تکبر کا خیال چھپائے ہوئے ہے وہ بھی اسلام کے نزدیک بد اخلاق ہو گا کیونکہ گو اس نے دوسرے شخص کو دکھ نہیں دیا مگر اپنے نفس کو اس نے بگاڑ دیا اور ناپاک کیا چنانچہ قرآن کریم نے اس فرق کو مفصلہ ذیل آیت میں بیان فرمایا ہےلَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا(الفرقان: 22) ان لوگوں نے اپنے دل میں بھی تکبر کیا اور ظاہر میں بھی لوگوں پر اپنی بڑائی کو ظاہر کیا اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے دل میں کسی کی نسبت بد خیال رکھتا ہے اس کو بھی اسلام ایک بد اخلاقی قرار دے گا خواہ وہ اس خیال کو ظاہر کرے یا نہ کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات:13) بعض دلی گمان بھی گناہ ہوتا ہے یعنی جب وہ بدظنی پر مبنی ہو اسی طرح ظلم و فساد خیانت وغیرہ کے خیالات یہ سب بد اخلاقیاں ہیں اور ایسے شخص کو جو ان کا مرتکب ہے گو جرأت کی کمی اور ساما ن کے میسر نہ آنے کے سبب سے ظاہر میں ان کے مطابق عمل نہیں کر سکتا وہ اسلام کے مطابق بد خلق ہے اور ہرگز اس کے ظاہر عمل کی بناء پر اسے نیک اخلاق والا نہیں سمجھا جائے گا۔اسی