انوارالعلوم (جلد 8) — Page 226
۲۲۶ اور اس کے مطابق تعلیم دی ہے۔پس وہی مذہب اخلاقی تعلیم میں اس کے مقابلہ پر آ سکتا ہے جو پہلے یہ ثابت کرے کہ اس نے بھی اخلاق کو سمجھا ہے اور اس کے مطابق تعلیم دی ہے ورنہ طبعی تقاضوں کا ذکر کر کے ان کا نام اخلاقی تعلیم رکھنا ظلم اور زبردستی ہے۔یہ بیان کرنے کے بعد کہ اسلام کے نزدیک اچھے اخلاق کے معنے یہ ہیں کہ انسانی طبعی تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے ماتحت استعمال کرے اور برے اخلاق کے یہ معنے ہیں کہ بِلا سوچے سمجھے بے محل اور بے موقع طبعی تقاضوں کو استعمال کرے۔میں چند احکام کے متعلق بطور مثال اسلامی تعلیم پیش کرتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ کس طرح ہر ایک طبعی تقاضے کو اسلام نے حد بندی کے نیچے رکھا ہے اور اس سے بہترین نتائج پیدا کئے ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے اخلاق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے یعنی اخلاق قلب اور اخلاق جوارح اور اس طرح اخلاق کے معیار کو بہت بلند کر دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الأَنعام:152) تم بدیوں کے قریب بھی نہ جاؤ نہ ان بدیوں کے جو لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں اور نہ ان کے جو بالکل مخفی ہیں اور لوگوں کی نظروں میں آ ہی نہیں سکتیں یعنی جن کا مرتکب دل ہوتا ہے۔ان کے معلوم کرنے کا کوئی ظاہری سامان لوگوں کے پاس نہیں سوائے اس کے کہ کرنے والا خود ہی بتائے۔اسی طرح فرماتا ہے وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ (البقرة:285) اگر تم ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یعنی اس کے مطابق عمل کرو تو بھی اور اگر تم اس کو جو تمہاے دلوں میں ہے چھپاؤ یعنی صرف دل کے خیالات تک محدود رکھو جوارح اس کے مطابق کوئی عمل نہ کریں تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے متعلق تم سے سوال کرے گا یعنی دریافت کرے گا کہ تم نے کیوں دل میں بدی کو جگہ دی یا بدی پر عمل کیا؟ اعمال انسانی کو ظاہر و باطن کی دو قسموں میں تقسیم کرنے کے بعد اسلام نے ان کو پھر دو حصوں میں تقسیم کیا ہے یعنی ان میں سے بعض کو اچھا قرار دیا ہے او ربعض کو برا چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ(هود:115) خلق دو قسم کے ہیں ایک اچھے اور ایک برے اور اچھے خلق برے خلقوں پر غالب آ جاتے ہیں یعنی جو شخص اچھے اخلاق کو اختیار کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ برے اخلاق پر غالب آ جاتا ہے۔پھر اچھے اوربرے خلقوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے یعنی وہ خلق جن کا اثر صرف اس کی ذات پر پڑتا ہے اور ایک وہ جن کا اثر