انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 185

۱۸۵ نے اپنی جہالت سے اس کو چھوڑا ہوا تھا۔یہ تو مشکل ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ایک ایک صفت کے متعلق بیان کروں کہ کس طرح مسیح موعود نے عرفان کامل کے حصول کے بعد اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور ثابت کیا مگر میں بطور مثال کے چند صفات کو لے لیتا ہوں۔اول ایک صفت جسے چھوٹے بڑے پیش کرتے ہیں علم کی صفت ہے۔ہر مذہب کے لوگ کہتے ہیں کہ خدا علیم ہے ہر اک چھوٹی بڑی بات کو جانتا ہے مگر باوجود اس کے کوئی نہیں بتاتا کہ کیونکر معلوم ہو کہ خدا علیم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صفت کو عملی ثبوتون سے دنیا پر ثابت کیا۔چنانچہ آپ نے ایسے علوم دنیا پر ظاہر کئے جن میں سے بعض دنیا کی نظروں سے مخفی تھے۔بعض ایسے تھے کہ ان کا طریق حصول غیر معمولی تھا اور بعض ایسے تھے ک ان کا جاننا ہی انسانی طاقت سے بالا تھا۔امرِ اول کی مثال تو مثلاً وہ تعلیم ہی ہے جو آپ نے دی ہے اور جس کا کچھ حصہ مختصراً بطور نمونہ کے میں اوپر ذکر کر چکا ہوں اور کچھ حصہ آگے بیان کروں گا اور امر دوم اور سوم کی مثالیں میں ذیل میں بیان کرتا ہوں۔شاید آپ لوگوں میں سے اکثر اس امر سے ناواقف ہوں کہ آپ ہندوستان کے اس گوشہ کے رہنے والے تھے جس پر سکھ حکمران تھے جن کے زیر حکومت علم کا نام و نشان نہ ملتا تھا۔آپ کسی مدرسہ میں نہیں پڑھے دس دن کے لئے بھی آپ نے کسی درسگاہ میں تعلیم نہیں حاصل کی۔آپ کے والد صاحب نے معمولی مدرسوں کے ذریعہ سے چند ابتدائی کتب آپ کو پڑھوا دی تھیں مگر جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے مقام نبوت پر ممتاز کیا تو ایک ہی رات میں آپ کو عربی کا علم اس شان کے ساتھ سکھا دیا کہ عرب اور مصر کے علماء اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گئے۔آپ نے عربی زبان میں بڑی تحدی کے ساتھ کتب لکھی ہیں اور اپنے مخالفوں کو بار بار چیلنج دیا ہے کہ اگر وہ آپ کی تصنیفات کو انسانی علم کا نتیجہ بتاتے ہیں تو ان کے مقابلہ میں ویسی ہی کتب لکھ کر دکھا دیں۔مگر باوجود بار بار چیلنج دینے کے او رمقابلہ کی دعوت دینے کے ایک شخص بھی مقابلہ پر نہیں آیا۔نہ کوئی مصر کا عالم نہ عرب کا نہ ہندوستان کا۔اب یہ نشان جو آپ سے ظاہر ہوا۔اگر اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا عقل اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ محض وہم کے ساتھ ایک شخص ایسا کمال پیدا کر سکتا ہے؟ پنجاب کا ملک عرب سے اس قدر دور ہے اور علمی مراکز سے اتنے فاصلہ پر ہے کہ کوئی صورت امکان نہیں کہ آپ نے دوسرے لوگوں سے مل کر عربی سیکھ لی