انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 137

۱۳۷ بیٹھ جاتے اور ہلاک ہو جاتے۔اسی طرح اس کی صفت بتاتی ہے کہ وہ علیم ہے ایک ایک ذرہ کا اس کو علم ہے وہ دلوں کے پوشیدہ راز اور پردوں کے اندر کی چھپی ہوئی باتیں بلکہ انسانی فطرت کے مخفی اسرار تک سے واقف ہے جن سے خود انسان بھی واقف نہیں ہوتا۔زمین کے اندر مدفون یا پہاڑ کی چوٹی پر رکھی ہوئی چیزیں سب اس کے لئے یکساں ہیں۔وہ پہلے زمانہ کے حالات بھی جانتا ے، حال سے بھی آگاہ ہے اور آئندہ زمانہ میں جو کچھ ہونے والا ہے وہ بھی اسے معلوم ہے۔وہ سمیع ہے یعنی سننے والا ہے مخفی سے مخفی بات کا اس کو علم ہے۔آہستہ سے آہستہ کلام وہ سنتا ہے چیونٹی کی رفتار بھی اس کی شنوائی سے باہر نہیں او رانسانی رگوں کےاندر خون کے چلنے کی حرکت سے جو آواز پیدا ہوتی ہے وہ بھی اس کی سماعت سے بالا نہیں ہے۔وہ حَیّ ہے یعنی خود زندہ ہے اور دوسروں کو زندہ کرتا ہے۔خالق ہے یعنی پید اکرتا ہے قَیّوم ہے یعنی دوسروں کو اپنی مدد سے قائم رکھتا ہے اور خود قائم ہے۔صَمَد ہے کوئی چیز اس کی مدد اور نصرت کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔غَفُور ہے لوگوں کی خطاؤں کو بخشتا ہے۔قَھّار ہے ہر ایک چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے جَبَّار ہے ہر ایک فساد کی اصلاح کرتا ہے وَھّاب ہے اپنے بنوں کو کو انعامات وافر سے حصہ دیتا ہے سَبُوح ہے کسی قسم کا کوئی عیب اس کے اندر نہیں پایا جاتا۔قُدُّوس ہے تمام قسم کی پاکیزگیوں کا جامع ہے نیند اس کو نہیں آتی۔تھکتا وہ نہیں ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔وہ مُھَیْمِن ہے ہر ایک چیز کا محافظ ہے ان صدمات سے اور وباؤں سے جن کا انسان کو علم بھی نہیں ہوتا اس کو بچاتا رہتا ہے۔کتنی دفعہ وہ بیماریوں کی زد میں آ جاتا ہے یا حادثات کا شکار ہونے لگتا ہے کہ مخفی در مخفی سامان اس کو اس کے صدمہ سے بچا لیتے ہیں۔بیماری کے پید اہوتے ہی جسم میں اس کے زہر کے مٹانے کے سامان بھی پیدا ہونے لگتے ہیں جب تک کہ انسان بالکل ہی غافل نہ ہو جائے اور قانون قدرت کے توڑنے پر مصر نہ رہے وہ بہت سے بد نتائج سے محفوظ رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ (النحل:62) اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے غیر طبعی اعمال پر پکڑنے لگتا تو دنیا پر ایک حیوان بھی باقی نہ رہتا۔غرضیکہ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (الحشر:25)سب نیک نام اس کو حاصل ہیں اور اس کی رحمت ہر ایک چیز پر غالب ہے۔جیسے فرمایا وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ(الأَعراف:157) میری رحمت ہر ایک دوسری شئے پر غالب ہے یعنی اللہ تعالیٰٰ کی صفات غضبیہ اس کی صفات رحمت کے ماتحت ہیں۔اللہ