انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 121

۱۲۱ بچانے کے سبب سے جو ہزاروں سال سے اس پر کئے جاتے تھے مسیحیوں کے موعود کہلانے کے مستحق تھے اور انہی چار قوموں پر بس نہیں آپ دنیا کی ہر ایک قوم کی قدیم اخبار کو پورا کرنے والے اور ساری دنیا کی امیدوں کو برلانے والے تھے۔کہا گیا تھا کہ آنے والا موعود مشرق سے ظاہر ہو گا چنانچہ آپ مشرق سے ظاہر ہوئے۔اور کہا گیا تھا کہ مسیح کی آمد سے پہلے جھوٹے مسیح ظاہر ہوں گے۔سو ایسا ہی ہوا کہ آپ کے دعویٰ سے پہلے کئی مسیحیت کے مدعی پیدا ہوئے جن میں سے بعض قریب تھا کہ بہت سے سمجھداروں کو بھی گمراہ کر دیتے۔لڑائیاں ہوئیں، طاعون پڑی، قحط پڑے، مگر آخر وہ علامت ظاہر ہوئی جسے انجیل اور زردشتیوں کی کتاب جاپاسی نے تو ان عام الفاظ میں بیان کیا ہے کہ سورج اور چاند اندھیرے ہو جائیں گے مگر اسلامی کتب میں اس کو زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے یعنی بتایا گیا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں سورج کو اس کی گرہن کی تاریخوں میں سے دوسری کو اور چاند کو اس کی گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ کو مہدی کے زمانہ میں گرہن لگے گا او ریہاں تک زور دیا گیا تھا کہ یہ علامت مہدی سے پہلے کسی مدعیٔ مہدویت کے لئے مقرر نہیں کی گئی۔چنانچہ یہ نشان بھی پورا ہوا اور اس نشان نے تمام مدعیان مسیحیت اور مہدویت کے مقابلہ میں آپ کے دعوے کو ممتا زکر کے دکھایا۔یہ گرہن 1894ء میں آپ کے دعوے کے چوتھے سال رمضان کے مہینہ میں عین انہی تاریخوں میں جو بتائی گئی تھیں لگا اور یہ عجیب بات ہے کہ گو کئی مدعی مہدویت اور مسیحیت کے پہلے گذرے ہیں کسی کےز مانہ میں یہ نشان ظاہر نہیں ہوا۔آپ کے زمانہ میں وہ غیر معمولی حالت بھی پیدا ہوئی جو پہلی کتب میں بتائی گئی تھی اور اس زمانہ سے پہلے کبھی دنیا میں اس کا ظہور نہیں ہوا۔یعنی کہا گیا تھا کہ اس زمانہ میں اس قدر امن بھی ہو گا کہ بچے سانپوں سے اور بکریاں بھیڑیوں سے بے خوف کھیلیں گی لیکن لڑائیاں بھی بکثرت ہوں گی گویا امن اور جنگ ایک ہی وقت میں دنیا میں پائے جائیں گے۔چنانچہ یہ بات نہایت