انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 118

۱۱۸ پہنچائے۔اے بھائیو! اگر دنیا کبھی کسی نبی کی محتاج تھی تو وہ آج اس سے بڑھ کر محتاج ہے۔مذاہب کی جڑ آج کھوکھلی ہو رہی ہے اور دنیا میں تین ہی کے لوگ نظر آتے ہیں یا تو وہ جو مذہب کی ضرورت کو ہی خیرباد کہہ چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کو یا تو بکلّی جواب دے چکے ہیں یا اس پر ان کو ویسا ہی ایمان ہے جیسا کہ پہاڑوں اور دریاؤں پر کیونکہ اس کا وجود ان کی روز مرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔اگر وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ خدا تعالیٰ نہیں ہے تو بھی ان کے اعمال میں کوئی تغیر واقع نہ ہو اور اب جو وہ کہتے ہیں کہ خدا ہے تو اب بھی اس کااثر ان کے اعمال پر کچھ نہیں ہے۔یہ لوگ یہاں تک کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم اپنی حریت کو خدا تعالیٰ کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتے اور اپنے وقار کو خدا تعالیٰ کے سامنے دعا اور عاجزی کر کے صدمہ نہیں پہنچانا چاہتے۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے تو قائل ہیں اور اس کی طاقتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں لیکن وہ اس پیاسے کی طرح ہیں جو ریگستان کے ٹیلوں کے درمیان راستہ بھول جاتا ہے او رمیلوں میل تک اسے پانی کا ایک قطرہ نہیں ملتا۔جوں جوں وہ پانی کی تلاش کرتا ہے اس کی پیاس اور بڑھتی جاتی ہے اور اس کی گھبراہٹ ترقی کرتی جاتی ہے مگر اس کا پھرنا اور چکر لگانا اس کو نفع نہیں دیتا۔وہ ایک سراب سے دوسرے سراب تک جاتا ہے اور بھی دور ہوتا جاتا ہے اور آخر موت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔تیسرا گروہ وہ ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہے اور اپنی حالت پر قانع ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی فطرت کے تقاضے پورے ہو چکے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ ہمت ہار چکا ہے اور خدا کے فضل سے مایوس ہو چکا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ خدا کے فضل پہلوں پر ختم ہو چکے ہیں۔میں اس کے سوتیلے بیٹے کی طرح ہوں جسے وہ اپنے مال کا وارث نہیں قرار دیتا اس لئے میرے لئے وہی کافی ہے جو پہلوں کے دستر خوان سے اٹھا اور جو ان کی مہربانی نے مجھ تک پہنچا دیا۔مگر یہ تینوں حالتیں غیر طبعی ہیں نہ پہلے گروہ کی بے اعتنائی اس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ دوسرے گروہ کی بے فائدہ جد و جہد اور نہ تیسرے گروہ کی قناعت۔جو چیز فائدہ پہنچا سکتی ہے وہ خدا کا عرفان ہے جو تمام تاریکیوں کو مٹا کر انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان سے سب پردے ہٹا دیتا ہےاو ر بندے اور خد اکو ایک جگہ جمع کر دیتا ہے اور مذہب کو ایسی صورت میں انسان کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اس کا دل اسے قبول کر لیتا ہے اور اس کی عقل تسلی پا جاتی ہے اور یہ بات نہ آج تک نبیوں کے بغیر دنیا کو حاصل ہوئی ہے نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔