انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 117

۱۱۷ خدا تعالیٰ کی طرف سے وقتاً فوقتاً انبیاء آتے رہے ہیں دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے لوگ نہ پائے جاتے ہوں۔دنیا کی ترقی انہی لوگوں سے وابستہ ہے او ران لوگوں کو علیحدہ کر کے دنیا میں تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر:25) کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نبی نہ گذرا ہو۔قدیم تاریخ کی ورق گردانی اور آثار قدیمہ کا تجسس ہمیں زیادہ سے زیادہ اس حقیقت کا معتقد بناتا جاتا ہے اور یہ تحقیق بنی نوع انسان میں یگانگت پیدا کرنے کا بہت بڑا موجب ہو رہی ہے جس کا سہرا قرآن کریم کے سر ہے جس نے اس حقیقت کو سب سے پہلے بیان کیا ہے۔جب ہم ان انبیاء کی آمد کی غرض کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بعثت کا داعی ہمیشہ دنیا میں سے روحانیت کا مٹ جانا اور خدا تعالیٰ سے تعلق کا قطع ہو جانا رہا ہے۔یہ لوگ ہمیشہ اس بادل کی طرح آتے رہے ہیں جو بارش کے ایک لمبے عرصہ تک بند رہنے کے بعد آتا ہے اور دنیا کو سرسبز و شاداب کر دیتا ہے۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کا وہ جواب ہوتے ہیں جو متلاشی دنیا کی پکار کے نتیجہ میں آسمان سے بھیجا جاتا ہے یا وہ نرسنگا ہوتے ہیں جو شکار کا پیچھا کرنے والے شکاریوں کو جب وہ جنگل میں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اکٹھا کرنے کے لئے وہ شکاری بجاتا ہے جس کے سامنے شکار ہوتا ہے۔دنیا ا سکے ذریعہ سے پھر صداقت پر جمع ہوتی ہے اور منزل مقصود کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔یہ سلسلہ نبوت جس طرح ہمیشہ سے چلا آیا ہے ہمارے نزدیک اسی طرح آئندہ چلا جائے گا اور وہ کسی وقت بند نہ ہو گا کیونکہ عقل انسانی اس سلسلہ کے بند ہونے کے خیال کو رد کرتی ہے۔اگر دنیا میں تاریکی اور خدا تعالیٰ سے دوری کے زمانے آتے رہیں گے تو یہ سلسلہ بند نہ ہو گا۔اگر وقتاً فوقتاً لوگ اصل راستہ کو چھوڑ کر گمراہی کے گھنے جنگلوں میں راستہ کھوتے رہیں گے اور سچے راستہ کی طرف پہنچنے کی خواہش ان کے دل میں پیدا ہوتی رہی گی اور وہ ہدایت کی جستجو کرتے رہیں گے تو ایسے لوگوں کی آمد کا انقطاع بھی ناممکن ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحیمیت کی شان کے خلاف ہے کہ وہ درد کو تو پیدا کرے مگر علاج پیدا نہ کرے۔تڑپ تو دے مگر ملاقات کے سامانوں کو مٹا دے۔ایسا خیال اس سرچشمۂ رحم پر بدظنی ہے اور روحانی نابینائی کی علامت۔اس عام قاعدہ کے ماتحت ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اس وقت ایک ہادی اور رہنما کی ضرورت تھی جو دنیا کو خدا تعالیٰ کا راستہ دکھائے اور شک و شبہ کی زندگی سے نکال کر یقین اور وثوق کے مرتبہ تک