انوارالعلوم (جلد 8) — Page 63
انوار العلوم جلد ۸ ۶۳ قول الحق کہ مرزا صاحب کا دعوی کیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ ان کا دعوی ہی ثابت نہیں ہے۔ حضرت مسیح نے کہا ہے لوگوں کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا مگر دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔ اگر اختلاف کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے دعوی کی تعیین نہیں ہے اور مرزا صاحب جھوٹے ہیں تو کیوں یہ لوگ حضرت عیسیٰ کو جھوٹا نہیں کہتے کیونکہ عیسائی انہیں خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا کا نبی تھا۔ یہ اختلاف ہے یا نہیں۔ پھر کیا اس سے حضرت عیسیٰ جھوٹے ثابت ہوئے؟ پھر حضرت مسیح موعود کو جانے دور سول کریم کے متعلق ہی دیکھ لو۔ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسول کریم ال کی نسبت مانتے ہیں کہ در حقیقت ان کا حق نبوت کا نہ تھا اصل میں حق حضرت علی کا تھا مگر جبرائیل بھول کر آپ کے پاس چلا گیا پھر مسلمانوں میں سے ہی وہ ہی وہ بھی ہیں جو مانتے - مانتے ہیں کہ اسی وجود میں رسول کریم ال واپس دنیا میں آئیں گے اور رسول کریم اللہ کی رجعت کے تاریخ کے طور پر قائل ہیں۔ کیا ان باتوں سے یہ سمجھا جائے کہ قرآن کریم کا مفہوم ہی مشخص نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کونسی بات ہے جس میں اختلاف نہیں کوئی نبی ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اس کے ماننے والوں میں اختلاف نہیں ہوا۔ پس ہمارا اور پیغامیوں کا اختلاف محض ایسا ہی اختلاف ہے جیسا کہ پہلے نبیوں کے بعد ان کی امتوں میں ہوتا رہا اس کا حضرت مسیح موعود کے دعوئی پر اثر نہیں پڑ سکتا۔ پھر رسول تو رسول خدا کے متعلق بھی اختلاف موجود ہے مسلمان کہلانے والے ایسے ہیں کہ جو ذرہ ذرہ کو خدا سمجھتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں خدا مجسم آسمان پر بیٹھا ہے۔ پس رسالت تو الگ رہی خدا کی خدائی میں بھی اختلاف ہے کیا اس سے خدا تعالیٰ کی ذات پر کوئی اعتراض پڑ سکتا ہے ؟ پھر حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں خدا کا جانشین خلیفة الله ہوں اب عجیب بات ہے ادھر تو یہ اعتراض کرتے ہیں ادھر بادشاہ کو خلیفہ اللہ کہتے ہیں۔ اگر جانشین کے یہ معنی ہیں کہ جس کا کوئی جانشین ہو وہ فوت ہو جائے اور اس کی جگہ وہ بیٹھے تو کیا نَعُوذُ بِاللهِ خدا فوت ہو گیا ہے اگر نہیں تو پھر حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کیسا؟ پھر کہا گیا ہے مرزا صاحب کہتے ہیں میں خدا ہوں حالانکہ خدا ہونے کے دعوے کا الزام حضرت مسیح موعود تو ہمیشہ لکھتے رہے ہیں کہ میں انسان ہوں اور ان انسان بھی رسول کریم ال جیسا نہیں ۔ پس جب رسول کریم ﷺ کو آپ خدا