انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 51

انوار العلوم جلد ۸ ۵۱ قول الحق " کیوں کرتے تھے تو یہ کونسی زبردست دلیل ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مرزا صاحب نے واقعی قابل تمسخر باتیں کیں بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ جیسے حضرت مرزا صاحب کے دشمنوں نے کہا کیوں انہوں نے ایسی باتیں کیں جو قابل تمسخر ہیں ویسے ہی سب انبیاء کے دشمنوں نے ان انبیاء کے متعلق کہا مگر خدا کہتا ہے یہ نہی یہ تمسخر جو انبیاء سے کرتے ہیں ان کے کام نہ آئے گا۔ یہ زمین میں ہی ذلیل اور رسوا ہو کر رہیں گے۔ کیونکہ خدا کہتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ اے افسوس ان بندوں پر اور جس پر خدا افسوس کرے اس کی حالت کس قدر قابل افسوس ہوگی۔ بندے کسی کی قابل افسوس حالت ہو جانے کے بعد افسوس کرتے ہیں مگر خدا پہلے ہی کرتا ہے کیونکہ جس طرح خدا کہتا ہے اسی طرح ہو کر رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کوئی رسول آتا ہے تو خدا کو افسوس آتا ہے کہ کیوں اس سے ہنسی ٹھٹھا کر کے لوگ اس کے غضب کو بڑھاتے ہیں تو یہ لوگ آج ہنتے ہیں مگر ایک دن آئے گا کہ ساری دنیا ان پر روئے گی۔ پس اگر اب حضرت مرزا صاحب کی باتوں پر لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہئے۔ تم مت گھبراؤ کہ کیا وجہ ہے خدا کا مسیح آیا اور لوگ اس سے ٹھٹھا کرتے ہیں کیونکہ خدا کہتا ہے آدم سے اس طرح ٹھٹھا کیا گیا، پھر مت گھبراؤ کہ حضرت مسیح موعود سے کیوں ٹھٹھا کیا جاتا ہے کیونکہ خدا کہتا ہے کہ نوح سے بھی اسی طرح کیا گیا پھر مت حیران ہو کہ حضرت صاحب کی باتوں پر لوگ کیوں استہزاء کرتے ہیں کیونکہ خدا کہتا ہے موسیٰ، عیسی محمد ﷺ کے زمانہ میں لوگ ان سے بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ مگر ان باتوں کے نتیجے کیا ہوئے ہیں کہ يُحَسْرَةً انبیاء سے تمسخر کرنیوالوں کا انجام عَلَی الْعِبَادِ ایک وہ دن آیا کہ لوگ ان پر حسرت کرنے لگے یہی حالت حضرت مرزا صاحب پر تمسخر کرنے والوں کی ہو رہی ہے۔ ہمارے سلسلہ کے مخالف کہتے ہیں ہم پر کیا حسرت ہوئی ہم تو تم سے زیادہ ہیں مگر دیکھو آج اسلام پر تیرہ سو ہتے ہیں ہم پر لیا حسرت سال سے زیادہ گذر چکے ہیں مگر مسلمان کہلانیوالوں سے دوسرے لوگ زیادہ ہیں دنیا کی ساری آبادی ایک ارب ہیں کروڑ بتائی جاتی ہے اور یورپین لوگ کہتے ہیں مسلمان ۲۰ کروڑ ہیں اور مسلمان کہتے ہیں ہم ۴۰ کروڑ ہیں۔ اگر یہی تعداد مان لیں تو بھی کس قدر مخالف زیادہ ہیں۔ باوجود اس کے کہ رسول کریم ال ساری دنیا کی طرف آئے اور اس پر تیرہ سو سال گزر چکے آپ کے منکروں کی تعداد دگنی ہے بہ نسبت ماننے والوں کے ۔ پس اگر محمد ال اپنے ماننے والوں کی