انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 645

انوار العلوم جلد ۸ ۶۴۵ دورہ یورپ ۳۵ امیر امان اللہ خان (۱۸۹۲ء- ۱۹۶۰ء) شاہِ افغانستان امیر حبیب اللہ خان کا تیسرا بیٹا جو ۱۹۱۹ء میں اپنے باپ کے قتل کے بعد افغانستان کا حکمران بنا۔ ۶- ران بنا۔ ۱۹۲۶ء میں امان اللہ خان نے امیر کی بجائے ”شاہ" کا لقب اختیار کیا۔ اس کے خلاف جب شورش ہوئی تو یہ کابل سے قندھار چلا گیا۔ ۱۹۲۹ء میں اٹلی روما چلا گیا اور وہیں وفات پائی۔ نادر شاہ کے قتل کے بعد ان کا بیٹا محمد ظاہر شاہ بادشاہ بنا تو اس کی میت روم سے کابل منگوائی گئی ۔ (اردو انسائیکلو پیڈیا جلد اول صفحه ۷ ۱۲ مطبوعہ لاہورے ۱۹۸ء) ۳۶ جمال پاشا۔ احمد جمال ۱۸۷۲ء میں استنبول میں پیدا ہوا۔ فوج میں بطور کپتان متعین ہوا۔ 1911ء میں بغداد کا والی مقرر کر دیا گیا بعد لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ دیا گیا ۔ ۱۹۱۴ء میں وزارت بحریہ اسکے سپرد کر دی گئی اس نے بحریہ کو مؤثر و مضبوط بنایا ۔ ۱۹۱۸ء میں فرار ہو کر برلن اور وہاں سے سوئٹزرلینڈ چلا گیا۔ قیام یورپ کے دوران میں اس نے افغانستان کے امیر امان اللہ خان کی ملازمت قبول کرلی۔ ۱۹۲۲ء میں کر کن لالیان (KEREKIN LALAYAN) اور سر گورتیان (SERGO VARTAYAN) نامی دوار منوں نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پہلے ” تفلس" اور پھر کچھ دن بعد "ارز" روم میں دفن کیا گیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلدے صفحہ ۳۶۹ مطبوعہ لاہو را ۱۹۷ء) ۳۷ مولوی عبدالرحمن صاحب - شهادت وسط ۱۹۰۱ء ( تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه ۱۸۵ طبع بار دوئم) ۳۸ امیر عبدالرحمن (۱۸۴۴ء - یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء) امیر محمد افضل خان کا بیٹا اور امیر دوست محمد خان کا پوتا۔ ۱۸۸۰ء میں برسراقتدار آیا۔ اس کے عہد میں ۱۸۹۳ء میں چترال سے بلوچستان تک ایک سرحدی خط متعین کیا گیا جسے ڈیورنڈ (Durand Line) کہتے ہیں۔ یہ ایک سخت گیر حکمران تھا۔ (اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۹۵۹٬۹۵۸ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) ۳۹ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب تاریخ شهادت -۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء (تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه ۳۲۷ طبع بار دو تم) ۲۰ امیر حبیب اللہ خان (عہد حکومت (۶۱۸۷۲-۱۹۱۹ء) والی افغانستان۔ اپنے والد امیر عبدالرحمن کی وفات کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء میں مسند نشین ہوا۔ ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء کو اس