انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 635

انوار العلوم جلد ۸ ۶۳۵ دورہ یورپ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ کارکنان نظارت اور صد را نجمن احمد یہ کے ایڈریس کا جواب (فرموده ۲۶- نومبر ۱۹۲۴ء) اس وقت جو ایڈریس کارکنان نظارت اور صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے پڑھا گیا ہے اس کے جواب میں میں اپنی طرف سے اور ہمراہیان سفر کی طرف سے وہی فقرہ کہتا ہوں جو رسول کریم ال ایسے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ جَزَاكُمُ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاء چونکہ آج اس سے قبل مجھے دو موقعوں پر بولنا پڑا ہے اور کھانسی کی شدت کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا اس لئے مجھے یہ تو نہیں کہنا چاہئے کہ میں اس وقت کچھ زیادہ کہنا نہیں چاہتا بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ زیادہ کہہ نہیں سکتا مگر اتنا ضرور کہتا ہوں کہ وہ کامیابی جو سلسلہ احمدیہ کو اس سفر میں حاصل ہوئی ہے اگر اس میں انسانی کوششوں کا کچھ دخل ہے اگر چہ اتنے تھوڑے وقت میں اتنے بڑے کام اور ایسے عظیم الشان نتائج جو رونما ہوئے ہیں انہیں مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کہہ سکتے کہ انسانی کوششوں کا اس میں دخل ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے بعض فضل بھی انسانی تدابیر کے جواب میں رکھے ہیں اس لئے اگر اس تھوڑی بہت حرکت اور کوشش کو مد نظر رکھا جائے جو جماعت کی طرف سے سے کی گئی ہے تو یہ کہنا سچائی پر پردہ ڈالنا ہو گا کہ وہ سعی اور محنت جو خدا تعالٰی کے اس فضل کا جاذب ہوتی ہے وہ صرف میرے اور میرے ہمراہیاں سفر کے کاموں تک محدود ہے۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو ہمیں بو ضاحت یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ دنیا میں بہت سے کام