انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 634

۶۳۴ میں داخل ہو گئے ان کی یاد کو تازہ رکھیں۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔خصوصاً ان لوگوں کو جن سے ہمارے شہداء کو جسمانی اور وطنی تعلق تھایعنی افغانستان کے باشندوں کو۔میں نے بتایا ہے ہم ان ملکوں کو چھوڑ نہیں سکتے جہاں ہمارے شہیدوں کا خون یا پسینہ بھی گرا ہے۔اور احساسات کو کوئی چیز کاٹ نہیں سکتی۔جب بھی یہ چار حرف ک۔ا۔ب۔ل مل کر ہماری آنکھوں کے سامنے آئیں گے ہمارا دل خواہ کتنا غفلت میں کیوں نہ ہو اس میں ایک ہیجان پیدا ہو جائے گا اس لئے اس ملک کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور اسے بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔مگر جو لوگ وہاں نہیں جا سکتے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کچھ لوگوں نے جو زندگیاں وقف کر دی ہیں ہمیں کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔وہ اپنے گھروں میں رہ کر بدلہ لے سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت میں ان دوسرے امور کے متعلق جو ایڈ ریس میں بیان کئے گئے ہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا اور اسی پر اپنی تقریر ختم کرتا ہوں اور دعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں کے انتقام کی سچی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے دین کی خدمت میں جائیں دی ہیں خواہ جسمانی طور پر خواہ ذہنی اور فکری طور پر۔اور ہمارا یہ انتقام انہی چیزوں سے ہو جو اصل قاتل ہیں نہ ان لوگوں سے جو ہتھیار کے طور پر ہیں جن سے مجھے کم از کم کسی قسم کابغض نہیں ہے۔(الفضل۱۱-ودسمبر ۱۹۲۴ء)