انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 611

انوا را اعلوم جلد ۸ ニト دورہ یورپ وفد کو نسا ہے ۔ عرفانی صاحب نے اسے بتایا کہ خلافت وفد تو کوئی نہیں۔ میں نے کہا اگر آپ کی مراد کسی ایسے وفد سے ہے جو ترکوں کی خلافت سے تعلق رکھتا ہو تو وہ کوئی نہیں اور اگر اس سے کوئی اور خلیفہ اور اس کا وفد مراد ہے تو میں ہوں۔ کہنے لگا اسی سے ملنا ہے اور حالات دریافت کرنے ہیں۔ چنانچہ وہ دیر تک پوچھتا رہا۔ پر وہ اور تعدد ازدواج اور دیگر ان مسائل کے متعلق جن پر یورپ میں اعتراض کئے جاتے ہیں۔ دلائل سن کر اُچھل پڑتا اور کہتا یہی تعلیم ہے جو دنیا کو در حقیقت پاک کر سکتی ہے۔ میرا جس وقت یورپ کو جانے کا فیصلہ ہوا تو مجھے وہ خواب یاد آیا ۔ جس میں میں نے اپنے آپ کو ولیم دی کنکر ر دیکھا تھا۔ دوران سفر میں خطرہ تھا کہ کسی شامت اعمال کی وجہ سے لندن پہنچنا نا ممکن نہ ہو جائے ۔ دمشق میں جب میں سخت بیمار ہو گیا تو یہی خطرہ تھا لیکن جب میں نے انگلستان کے ساحل پر قدم رکھا تو سمجھ گیا کہ اب خدا کے فضل سے یہ فتح ہو گیا۔ چنانچہ میں نے اسی وقت مضمون لکھا۔ جو ”الفضل " میں شائع ہو گیا۔ اس میں میں نے لکھ دیا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح شروع ہو گئی ہے۔ یہ میں نے پہنچتے وقت ہی لکھا تھا۔ کامیابیاں بعد میں شروع ہوئیں جب میں انگلستان پہنچ گیا تو اس وقت نہ پہنچنے کاڈر نہ تھا اور خواب کے پورے ہونے کے آثار ایسے نظر آ رہے تھے اور خدا تعالیٰ نے اس قدر کامیابی دی کہ اب مخالفین بھی ہماری کامیابی کو اپنی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ چنانچہ مجھے راستہ میں ہی خط ملا کہ کانفرنس مذاہب میں جو کامیابی خدا نے ہمیں دی اسے خواجہ کمال الدین صاحب اپنی طرف منسوب کر رہے ہیں ۔ بعض کو ان کی یہ بات بری معلوم ہوئی مگر حافظ روشن علی صاحب کا یہ فقرہ مجھے بہت پسند آیا ۔ کہ کیا ہوا؟ شیر کا مارا گیدڑ کھایا ہی کرتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلی عجیب کامیابی مصر میں حاصل ہوئی ۔ میرا خیال تھا کہ یہ اسلامی ملک ہے سرسری نظر سے اس کو بھی دیکھتا جاؤں۔ وہاں پہنچتے ہی لوگوں کی ہماری طرف ایسی توجہ ہوئی کہ خلافت کی دونوں پارٹیاں آئیں - ایک پارٹی کے آدمی کہیں کہ ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ ۔ اور سری کے کہیں ہمارے ہمارے ۔ ساتھ ۔ ان کو ہماری مخالفت یاد نہ رہی۔ اس سے ہم کو یہ اندازہ لگانے کا موقع مل گیا کہ ایسے ذرائع بھی ہیں کہ ان ملکوں میں انسان پہنچ سکتا ہے ۔ وہاں کے لوگوں نے ہمیں بہت ڈرایا کہ یہاں تمہیں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ ایک اخبار کے ایڈیٹر کو دوست ملنے گئے وہ چودھری فتح محمد صاحب سے کہنے لگا یہ ہندوستان نہیں ہے کہ تم لوگ کامیابی حاصل کر لو ۔ اب ہم رو