انوارالعلوم (جلد 8) — Page 610
۶۱۰ کے جاٹ اور سکھ گئے ہوئے ہوں، شراب کی بوتلیں لنڈھا رہے ہوں اس مجمع کے پاس وعظ ہو رہا ہو اور لوگ کھیل کو چھوڑ کر اور بوتلیں تو ڑ کر ادھر آ جائیں۔یہ مثال کسی قدر اس حالت کے مشابہ ہو سکتی ہے جو ہمارے متعلق لندن میں ہوئی۔جس قسم کی یہ عجیب حالت خیال کی جا سکتی ہے وہ اس وقت تھی جب وہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے۔اسی طرح جہاں جہاں سے ہم گزرے عجیب حالت پیدا ہو جاتی۔بڑے بڑے ملکوں میں طویل عرصہ میں بھی عام پہنچانا مشکل ہوتا ہے مگر ہماری شہرت بجلی کی کی تیزی کے ساتھ ہو جاتی ا۔ٹلی میں ہم تین دن ٹھہرے۔وہاں کا سب سے بڑا اخبار جس کی آٹھ لاکھ اشاعت ہے اور جو دس مختلف شہروں سے نکلتا ہے۔اس کے ایڈیٹر کو جب ہمارے آدمی ملنے کے لئے گئے تو اس نے کہا کہ سب سے پہلے مجھے ملا قات کا موقع دیا جائے خواہ رات کو ہی دیا جائے۔چنانچہ وہ وقت مقرر کرا کے ۱۱ بجے رات کے آیا اور بارہ ۱۲ بجے تک گفتگو کر کے گیا۔اور صبح ہی اس نے بہت زور دار مضمون لکھا۔اٹلی میں میں نے پوپ سے ملنا چاہا تھا مگر جب انگریزی قائم مقام کے ذریعہ پوچھا تو اس نے کہاچو نکہ میرا مکان بن رہا ہے اس لئے ان دنوں ملاقا تیں بند ہیں۔اخبار مذ کور کے ایڈیٹر نے پوچھا کیا آپ پوپ سے ملیں گے جب میں نے اسے پوپ کا جواب بتایا تو اس نے کہا آپ کیوں ملنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا اس لئے کہ چونکہ وہ معزّز آدمی ہے اس لئے ہم اس کے سامنے تحفہ پیش کر کے اس کا احترام کرتے۔اس نے پوچھا۔کیا تحفہ ؟ میں نے کہا ہمارے نزدیک سب سے بڑا تحفہ اسلام ہے وہی پیش کرتے۔اس نے اپنے مضمون میں اس کا بھی ذکر کیا اور لکھا تعجب ہے ایک سردار آتا اور پوپ سے ملنا چاہتا ہے مگر پوپ کہتا ہے چونکہ مکان کی مرمت ہو رہی ہے اس لئے مل نہیں سکتا۔اب ہمیشہ ہی اس کا مکان زیر مرمت رہے گا۔یہ کتنا طاقتور فقرہ ہے جو ایک عیسائی اخبار او ر اس قد ر بارسوخ اخبار پوپ کے متعلق لکھتا ہے۔گویا وہ ایک طرح سے بد دعا کرتا ہے کہ پوپ کا مکان کبھی بھی مکمل نہ ہو گا جبکہ زیر مرمت ہی رہے گا۔اسی طرح آتی دفعہ سٹیشن سے ایک اخبار کو ٹیلی فون کیا۔جواب آیا ابھی وقت مقرر کریں ہما را نامہ نگار آتا ہے چنانچہ وہ آیا اور ایک گھنٹہ تک گفتگو کی اور حالات قلم بند کر کے لے گیا۔پیرس میں اس سے بھی عجیب حالت ہوئی۔ایک بڑا زبردست اخبار تھا جس کا ایڈ یٹر دو دفعہ ملا اور کئی ایڈ یٹروں کو موقع نہ دیا جا سکا کیونکہ وقت نہ تھا۔انہیں صرف خبر ملنے کی دیر ہوتی تھی کہ ان میں خود ملاقات کی تڑپ پیدا ہو جاتی۔پیرس میں ایک کپتان ہوٹل میں آیا اور پوچھنے لگا کہ خلافت