انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 607

۶۰۷ غور سے دیکھا جائے تو ان تین چیزوں کی کامل محبت رسول کریم ﷺمیں پائی جاتی ہے۔اور اس قد ر پائی جاتی ہے کہ اس کی نظیر اسلام کے سوا اور کسی نہ مذہب میں نہیں ملتی۔طِیب سے مراد خوشبو اور صفائی ہے۔اور نبی کریم ﷺسے پہلے کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں صفائی پر اس قدر زور دیا گیا ہو جس قدر اسلام نے دیا ہے۔پہلے مذاہب میں یہی کمال سمجھا جاتا تھا کہ انسان میلا اور گندا ہے۔آج تک کئی پادری ناخن تک نہیں اُترواتے اور جتنی زیاد ہ غلاظت ان کے ناخنوں میں ہو اتنے ہی زیا دہ خدا رسیدہ سمجھے جاتے ہیں وہ سالہا سال تک نہاتے نہیں۔لیکن محمد ﷺ فرماتے ہیں۔طِیب یعنی صفائی نہایت ضروری ہے او راس بات کو آپ نے ہی قائم فرمایا اور اس سے محبت کرتے تھے۔پھر فرماتے ہیں مجھے عورتوں کی محبت ہے یہاں نساء کا لفظ ہے۔ازواج کا نہیں۔یعنی بیویوں کا ذکر نہیں بلکہ عام عورتوں کا ذکر ہے۔اور آپ فرماتے ہیں کہ کوئی مذہب نہیں آیا جس نے عورتوں کے حقوق اور فوائد کی اس طرح نگہداشت کی ہو جس طرح میں کرتا ہوں۔پہلے مذاہب نے عورتوں کے حقوق دبائے ہوئے ہیں کوئی ان سے ہمد ردی نہیں کرتا مگر میں ان کے حقوق قائم کروں گا اور میں ان کی ترقی کا بھی اسی طرح خیال رکھوں گا جس طرح مردوں کی ترقی کا۔پھر فرمایا ز عيني في المملوة کے نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔یہ بھی خاص امتیاز ہے جو اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلہ میں حاصل ہے۔دنیا میں کوئی قوم نہیں جس میں نماز کی طرح عبادت میں باقاعدگی رکھی گئی ہو۔پچھلے تمام مذاہب ظاہری حرکات پر زور دیتے رہے یا ان میں عبادت کے اوقات اتنے فاصلہ پر رکھے گئے ہیں کہ روحانیت کمزو ر ہو جاتی ہے مگر صرف اسلام ہی ایک ایسامذ ہب ہے کہ جس کے ماننے والوں کو ایک دن میں پانچ وقت عبادت کے لئے بلایا جاتا ہے اور کوئی مذہب ایسا نہیں ہے۔عیسائی اور ہندو ہفتہ میں ایک بار عبادت کے لئے جاتے ہیں، ممکن ہے ان میں سے بعض لوگ رات دن عبادت کرتے ہوں مگر یہ اجتماعی عبادت کا ذ کر ہے۔ایک دن میں کئی بار عبادت کرنے کا حکم رسول کریم ﷺنے ہی دیا ہے۔پھر صلوٰۃ کے معنی دعا کے بھی ہیں اور اس طرح رسول کریم ﷺنے دعا پر زور دیا ہے۔دوسرے مذاہب کی عبادتوں میں ظاہری باتوں پر زور دیا گیا ہے اور ان کے ذریعہ عبادت میں لذت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلا ًآریوں اور عیسائیوں میں گانا بجانا ہو تا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مجھے ایسی عبادت عطا ہوئی ہے کہ اسی میں لذت ہے اور ایسی لذت ہے جس کا کوئی مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔