انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 608

۶۰۸ پس یہ محبت ہے جو رسول کریم ﷺ کو دی گئی۔اب کیا رسول کریم ﷺخوشبو ،عورتوں اور صلوٰۃ محبت کرنے کی وجہ سے (نعوذ بالله) مشرک ہو گئے تھے ہرگز نہیں۔بات یہ ہے کہ محبت ایسی چیز ہے جو مشترک رکھی گئی ہے اور نہ صرف یہ پسند کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ محبت کرو۔حتی کہ یہ مومن کے لئے نشان رکھا گیا ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کے لئے پسند کرے جس کے معنی یہ ہیں کہ سب سے محبت کرے۔پھر رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تاکہ محبت بڑھے۔۷۵؎ تو محبت کا پیدا کرنا اسلام کی اغراض میں سے ہے۔اور اس کے متعلق اعتراض حقیقت سے دور ہے۔ایسا اعتراض کوئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ انسان کس طرح کر سکتا ہے۔اس کا جواب یہی ہے کہ حسد سب کچھ کرالیتا ہے۔وہ کچھ اور توکرہی نہیں سکتا اس لئے وہ اعتراض کر کے اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے۔خدا تعالی نے اس سفر میں جو نشان دکھائے ہیں ان کی طرف بھی اس مضمون میں اشارہ کیا گیا ہے۔میں سمجھتاہوں گو ہمارے دوستوں کو تفصیلی طور پر حالات سفر کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں اور گوبعض دوستوں نے عمدگی سے اطلاعات پہنچانے کی کوشش کی ہے اگر چہ ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور افسوس ناک غلطیاں ہوئی ہیں مگر جو دیکھنے والوں نے نظارہ دیکھا ہے وہ سننے سے معلوم نہیں ہو سکتا۔راستہ میں میں احباب کو کہتا تھا تم لوگ تو اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ بیٹھے تھے۔کیونکہ جو تمهارے متعلق کچھ کرتا اس سے مطالبہ کرتے تھے کہ اس نے یوں کیوں نہ کیایوں ہو نا چاہئے تھا۔یہ نتیجہ تھا ان کامیابیوں کا جو خدا تعالی نے دیں۔مجھے ایک شخص نے جو انگلستان کے ایک اخبار سے تعلق رکھتا تھا کیا اور بعض اور نے بھی کہا کہ آپ لوگ اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے جو کامیابی آپ لوگوں کو یہاں ہوتی ہے اور جس طریق سے پر یس نے آپ کو مد د دی ہے۔مگر ہمارے دوست جو بیان اخبارات میں دیکھتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ہونا چاہئے تھا۔حالانکہ جس طرح ہمارے متعلق اخبارات نے توجہ کی ہے کبھی کسی بادشاہ کے متعلق بھی نہیں کی۔ہمیں بتایا گیا کہ یہاں کے اخبارات کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے لئے تین چار دفعہ سے زیادہ ذ کر نہیں کرتے اور پھر نہیں پوچھتے کہ کون ہے۔مگر آپ دو ماہ یہاں رہے اور ہر موقع پر آپ کے متعلق اخبارات نے مضامین شائع کئے ہیں۔اور اسی طرح آپ کے کام میں مدد دی یہ بالکل غیر معمولی بات ہے۔انگلستان کے اخبارات کی جو طاقت ہے اس کا یہاں اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ایک دکاندار نے بتایا کہ وہ چھوٹے سے اشتہار کا چار لاکھ روپیہ سالانہ دیتے ہیں۔اور وہاں کے