انوارالعلوم (جلد 8) — Page 571
۵۷۱ ایسی کوئی اطلاع نہیں آئی۔پھر وہ واپس چلے گئے۔حقیقت حال یہ ہے" مذکورہ بالا مور کے متعلق جو میں نے خلاصتہً عرض کئے ہیں۔حضور نے نہایت ہی شفقت اور ذره نوازی سے اپنی انتہائی مصروفیت اور علالت طبع کے باوجود حسب ذیل مکتوب گرامی میرے نام ارسال کیا فرمایا ہے۔جس پر مختلف عنوان میں نے خود لگائے ہیں۔(ایڈیٹر) عزیز مکرم! السلام عليكم - آپ کا خط ملاغیر احمدیوں کا شور کہ مسیحی حکومتوں سے کیوں مرافعہ کیا گیا ہے فضول ہے۔اول وہ تو خود ترکوں کے متعلق ان سے مرافعہ کرتے رہے ہیں۔دوسرے انہوں نے اس قتل( مولوی نعمت اللہ خان صاحب کا قتل۔مرتب) کی داد دے کر اپنے اندرونہ کو ظاہر کردیا ہے۔کیا ان بھیڑیوں سے مرافعہ کیا جاتا۔اور اگر ان لوگوں کے نزدیک مرتد کی سزا قتل ہے تو پھر ان کو ایسے ہی معاملہ اور سلوک کی غیروں سے بھی امید رکھنی چاہیئے۔اگر مسیحی اور دوسری حکومتیں یہی معاملہ مسلمان ہونے والوں سے کریں تو مسلمان جو تعداد میں مسیحیوں اور بدھوں سے کم ہیں ان کے لئے ترقی کاکون سامید ان رہ جائے اور کوئی سچادین کس طرح ترقی کرے؟ اگر یہ سلوک درست ہے تو اہل مکہ جو کچھ مسلمانوں سے کرتے تھے عین انصاف کے مطابق تھاکیونکہ وہ بھی اپنے دین کو سچاسمجھ کر ایساکرتے تھے۔اگر مسلمانوں کا حق ہے کہ چونکہ ان کا دین سچا ہے اس لئے اس سے مرتد ہونے والے کی سزا قتل ہے تو پھر ہر ایک قوم جو اپنے دین کو سچا سمجھتی ہے اس کا یہی حق ہو گا۔اور اس سے اسلام پر جس قدر تباہی آئے گی وہ ظاہرہی ہے کیونکہ مسلمان زیادہ تر غیر حکومتوں کے ماتحت ہیں۔اگر مسلمان مرتد ہوتے رہیں تو ان کو عام طور پر مسلمان قتل نہیں کر سکیں گے لیکن اگر غیر لوگ مسلمان ہوں گے تو ان کو دوسری حکومتیں کر سکیں گی۔پس اسلام کی ترقی کا راستہ مسدود ہو جائے گا اور اس کی تباہی کا راستہ کھلا رہے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ غیراحمدی اس فتویٰ پر اسی وجہ سے مُصّر ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ دوسرے لوگ اس فتویٰ کے مقابلہ کی وجہ سے ہمارے خلاف یہ ہتھیار نہیں استعمال کریں گے کیونکہ وہ تہذیب ظاہری میں ترقی یافتہ ہیں۔مگر کیا یہ شرافت ہے کہ ہم اس لئے کسی کو نقصان پہنچائیں کہ وہ بالمقابل ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا اس سبب سے نہیں کہ وہ کمزور ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اس فعل کو خلاف انسانیت سمجھتا ہے۔بعض اخباروں کا یہ لکھنا کہ شہید مرحوم خوست کے باغیوں کا سرغنہ تھا کس قدر جہالت پر دلالت کرتا ہے۔ابھی چند ماہ ہوۓ کہ خوست کے باغیوں نے دواحمدیوں کے گاؤں