انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 570

۵۷۰ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم مکتوب بنام ایڈ یٹر الفضل (تحریر فرموده ۸-اکتوبر ۱۹۲۴ء) اس ہفتہ کی ولایتی ڈاک سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایده الله تعالی کی طرف سے خاکسار کے نام جو خط موصول ہوا ہے۔وہ حضور نے میرے ایک عریضہ کے جواب میں رقم فرمایا ہے میں نے اپنے خط میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب کے واقعہ سنگساری کے متعلق حضور کے تاربنام دول یورپ اور جمعیۃ الا قوام پر بعض غیراحمدی اخبارات کے شوروشر کا ذکر کیا تھا۔نیز میں نے لکھا تھا کہ بعض اخبارات نے کابل کی حمایت میں احمدیوں کو مرتد قرار دیکر واجب القتل ٹھہرایا ہے۔علاوہ ازیں میں نے اس مراسلت کا ذکر کیا تھا۔جو بہائیوں کے اخبار "میرزا عزیز اللہ خان پرائیویٹ سیکرٹری شوقی ربانی حیفا ‘‘کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حیفا تشریف لے جانے کے متعلق شائع ہوئی۔اور جس میں انگور کا خوشہ دینے۔مذہبی بات چیت کرنے کے لئے کہنے اور ٹھہرنے کی دعوت دینے کا ذکر کرنے کے بعد لکھا تھا۔ٍ ’’دو محترم شخص ان کے پاس سٹیشن پر دعوت لے کر گئے۔مگر خلیفہ قادیانی نے محض اپنے خادم کے ذریعہ گفتگو کی۔اور خود ان سے دو کلمے مہربانی کے بھی نہیں کہے۔اور ان کے طریق وواد کے مقابلہ میں کچھ ملاطفت بھی ظاہر نہیں کرتے" اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا:۔’’ہم کو جماعت قادیان کے اس اخلاقی مظاہرہ پر بے حد تعجب ہے مگر شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ صبح کی نامرادی کا اثر ابھی ان کی طبیعت پر باقی تھا۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ جناب مرزا بدیع نے جو سرکاری دفتر میں ایک معزز عہدے پر ممتاز ہیں کہا کہ ایک گاڑی آج صبح سرکاری دفتر میں آئی۔اور رئیس قادیان کے سیکرٹری نے مجھ سے پوچھا کہ کیا قدس سے حیفا کے حاکم کو اطلاع نہیں دی گئی کہ رئیس قادیان سے ملاقات اور ان کا احترام کریں تو میں نے تحقیق کر کے جواب دیا کہ