انوارالعلوم (جلد 8) — Page 569
۵۶۹ چِڑائے۔چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی خیال رکھا جاوے۔بعض وقت انسان پر ایسے آتے ہیں کہ وہ بہت نرم ہوتا ہے اور اس پر اثر ہوتا ہے۔دہریوں پر بھی ایسے وقت آجاتے ہیں اس لئے کبھی یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یہ معمولی بات ہے یا کیا فائدہ ہو گا۔ان کا محبت اور اخلاق سے مذ ہبی پابندی کا خیال رکھا جاوے۔اس کے بعد لندن کے مبلغ کی موزونیت پر من وجع تبادلہ خیالات ہوتا رہا اور حضرت اس کے متعلق ضروری فیصلہ فرماتے رہے اور مبلّغین کو یہاں کے لوگوں سے کام لینے کے طریق پر مختصر ہدایات دیتے رہے۔پھر نیچر کی تعریف کا سوال جو کانفرنس میں بھی اٹھا تھا پیش ہوا۔حضرت نے فرمایا : نیچروہ قانون ہے جس کے ذریعہ ہر چیز اپنی بناوٹ اور ساخت کے مطابق کام کرتی ہے۔نیچر گورننگ چیز نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو یہ سائنس دان خدا کی کبھی کوئی نیچر بتاتے مگر ایسا نہیں ہے۔لاء (قانون) اصل چیز کی بناوٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ہر چیز کے دوسری چیزوں سے مل کر جو افعال سرزد ہوتے ہیں وہ اس کی نیچر ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح کو لا إله إلا الله کے معنی یہ سمجھائے گئے تھے کہ خدا تعالی کے سوا کسی چیز کی حیثیت مستقل نہیں اور یہ درست ہے کہ دنیاکی ہر چیز دوسری چیز سے کوئی نہ کوئی نسبتی تعلق رکھتی ہے۔قرآن شریف میں خدا تعالی نے اسی اصول کو بتایا ہے ومن کل شيئ خلقنا زوجين فلو ۶۵؎ اس میں اسی نسبتی تعلق کی طرف اشارہ ہے۔غرض نیچر بذات خود کوئی گورننگ چیز نہیں ہے جنہوں نے ایسا سمجھا ہے غلطی کھائی ہے۔بیعت اس کے بعد افریقہ کے مسٹراشوڈی نے بیعت کی اس نے پہلے سے تحریری بیعت کی ہوئی تھی مگر آج اسے یہ سعادت نصیب ہوئی آگے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بھی بیعت کی۔(الفضل ۱۱۔نومبر ۱۹۲۴ء)