انوارالعلوم (جلد 8) — Page 542
۵۴۲ کہا کہ مجھے ایسا الہام ہوا ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ یہ میری آزمائش ہی نہ ہو۔حضرت خدیجہؓ جو آپ کی ایک ایک حرکت کا غور سے مطالعہ کرتی تھی اس بات کو سن کر جواب دیا کہ نہیں ہرگز نہیں ،یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالی اس طرح آپ کو ابتلاء میں ڈالے۔حالا نکہ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور جو لوگ کام نہیں کر سکتے ان کی مدد کرتے ہیں اور آپ سے وہ اخلاق ظاہر ہوتے ہیں جو دنیا میں اور کسی سے ظاہر نہیں ہوتے اور آپ مہمانوں کی خوب خاطرو مدارات کرتے ہیں اور جو لوگ مصائب میں مبتلا ہیں ان کی مدد کرتے ہیں۔۴۸؎ یہ اُس عورت کی رائے ہے جو آپ کی پہلی بیوی تھی اور جو آپ کے تمام اعمال سے واقف تھی اور اُس سے زیادہ سچا گواہ اور کون ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انسان کی حقیقت ہمیشہ تجربہ سے معلوم ہوتی ہے اور تجربہ جس قدر بیوی کو خاوند کے حالات کا ہوتا ہے دوسرے کو نہیں ہو سکتا مگر آپ کی تکلیف اس تسلی سے دور نہ ہوئی اور حضرت خدیجہؓ نے یہ تجویز کی کہ آپ میرے بھائی جو بائیبل کے عالم ہیں سے ملیں اور ان سے پوچھیں کہ اس قسم کی وحی کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ ورقہ بن نوفل یہودی کا تصدیق کرنا چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے اور ورقہ بن نوفل سے جو حضرت خدیجہؓ کے رشتے میں بھائی تھے جاکر پہلے ان کو سب حال سنایا۔انہوں نے سن کر کہا کہ گھبرائیں نہیں تمہیں اسی طرح خدا تعالی کی طرف سے وحی ہوئی جس طرح کہ موسیٰؑ کو ہوا کرتی تھی اور پھر کہا کہ افسوس کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں کاش! کہ میں اس وقت جوان ہوتا جب خدا تعالی تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کرے گا اور تیری قوم تجھے شہر سے نکال دے گی۔رسول کریم ﷺ جو رات دن دنیا کی بہتری کی فکر میں لگے ہوئے تھے اور سب اہل شہران سے خوش تھے اس امر کو سن کر حیران ہوئے اور حیرت سے دریافت فرمایا کہ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا ہاں! کبھی کوئی شخص اس قدر بڑے پیغام کو لے کر نہیں آیا جو تُو لایا ہے کہ اس کی قوم نے اس پر ظلم نہ کیا ہو اور اس کو دکھ نہ دیا ہو۔اس سلوک اور محبت کی وجہ سے جو آپ لوگوں سے کرتے تھے اس محبت کے سبب سے جو آپ کو ہر ایک آدمی کے ساتھ تھی اور اس خدمت کے ماتحت جو آپ اپنے شہر کے غرباء کی کرتے تھے۔یہ بات کہ شہر کے لوگ آپ کے دشمن ہو جائیں گے آپ کو عجیب معلوم ہوئی مگر مستقبل آپ کے لئے کچھ اور چھپائے ہوئے تھا۔